دوسری صورت میں( یعنی اگر ریا نہ بھی ہوتا تو بھی عبادت مکمل کرتا ) جتنی ریاکاری اس فعل میں اچانک شامل ہوگئی تو اتنی ہی مقدار میں ثواب ضائع ہوگا پوری عبادت کا نہیں ۔مثلاًکوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو اور کچھ افراد آجائیں(اگر وہ نہ بھی آتے تو بھی وہ نماز پوری پڑھتا) اور وہ ان کے آنے پر خوش ہو اور دکھاوے کی صورت پیدا ہوجائے مثلاً وہ اپنے رکوع وسجود بہتر انداز میں کرنا شروع کردے تو اسے اس نماز کا ثواب تو ملے گا مگر جو خوبی ریا کے باعث پیدا ہوئی اس کا ثواب نہیں ملے گا ۔ امام غزالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا :''اگر کسی شخص کی عبادت کا لوگوں پر ظاہر ہونا اس کے نشاط میں اضافہ اور قوت پیدا کرتا ہے اور اگر لوگوں پراس کی عبادت ظاہر نہ ہوتی تب بھی وہ عبادت نہ چھوڑتاپھر اگر چہ اس کی نیت ریا ہی کی ہو تو ہمارا گمان ہے کہ اس کا اصل ثواب ضائع نہ ہو گا، ریا کی مقدار کے مطابق اسے سزا ملے گی جبکہ ثواب کی نیت جتنا ثواب اسے ملے گا۔''
(الزواجرعن اقتراف الکبائر،ج۱،ص۷۸)