Brailvi Books

رِیاکاری
59 - 167
شیطانی خیال کو فوراً جھٹک دیا تو اس کی یہ عبادت خالص (یعنی اخلاص والی)ہوگی اور اسے ثواب بھی ملے گا ۔اَلْحَدِیْقَۃُ النَّدِیۃ،جلد اوّل میں ہے : فقط ریاکاری کا دل میں خیال آنا اورطبیعت کا اس طرف مائل ہونا نقصان دہ نہیں ہے کیونکہ شیطان تو ہرانسان پرمسلط ہے۔ اس لئے یہ بات بندۂ مکلف کی قدرت میں نہیں کہ وہ شیطانی وسوسوں کوروک سکے اوران کی طرف مائل نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ شیطان وسوسے ڈالتاہی رہتاہے اور انسان کوچاہیے کہ ان وساوس کو دل میں نہ بٹھائے اورشیطانی حیلوں کاعلمِ دین اورنفرت وانکار سے مقابلہ کرے ۔
 (الحدیقۃالندیۃ ،ج۱،ص۴۹۶)
    اور اگر اس نے ریاکاری کے اس شیطانی خیال کو دل پر جما لیا یہاں تک کہ وہ عبادت مکمل ہوگئی تودیکھا جائے گا کہ
    (۱)وہ بقیہ عبادت اسی ریا کی وجہ سے پوری کررہا ہے ،یا

    (۲) اگر ریا نہ بھی ہوتا تو بھی عبادت مکمل کرتا ۔
    پہلی صورت میں (یعنی جب اس نے یہ عبادت محض ریاکی وجہ سے مکمل کی )دیکھا جائے گا کہ اگروہ عبادت نماز ،روزہ اورحج ہے تو ایسی صورت میں اِن کاموں کا ثواب نہیں ملے گا ۔ اس کی مثال یہ ہے کہ کسی نے نماز پڑھنا شرو ع کی پھر اسے اپنا بھولاہوا مال اچانک یاد آیا اور وہ اسے فوراً ڈھونڈنا چاہتا ہے تو اگر لوگ نہ ہوتے تو یہ نماز تو ڑ دیتا، لیکن اس نے اپنی نماز کو لوگوں کی مذمت کے خوف سے پورا کیا تو اس کا ثواب ضائع ہوگیا۔نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عمل برتن کی طرح
Flag Counter