حکیم الامت مفتی احمدیارخان علیہ رحمۃ المنّان اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں : یعنی جو شخص دنیا میں کفار،فاسق و بدکار کے سے لباس پہنے، انکی سی شکل بنائے، کل قیامت میں ان کے ساتھ اٹھے گااور جو متقی مسلمانوں کی سی شکل بنائے انکا لباس پہنے وہ کل قیامت میں انشاء اللہ (عزوجل)متقیوں کے زمرہ میں اٹھے گا خیال رہے کہ کسی کی سی صورت بنانا تَشَبُّہ ہے اور کسی کی سی سیرت اختیار کرنا تَخَلُّق ہے یہاں تشبہ فرمایا گیا ہے۔حکایت : غرقِ فرعون کے دن سارے فرعونی ڈوب گئے مگر فرعونیوں کا بہروپیا بچ گیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے بارگاہِ الہی میں عرض کی:''مولیٰ یہ کیوں بچ گیا؟'' فرمایا:'' اس نے تمہارا روپ بھرا ہواتھا،ہم محبوب کی صورت والے کو بھی عذاب نہیں دیتے۔ ( مرقات) مسلمان کو چاہیے کہ نماز و روزہ وغیرہ عبادات میں بھی اچھوں خصوصاً اچھوں سے اچھے یعنی محبوب (صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم) کی نقل کرنے کی نیت کرے ۔ دل لگے یانہ لگے شکل تو حضور کی سی بن جاتی ہے۔ ا ن شاء اللہ (عزوجل) اصل کی برکت سے خدا ہم نقالوں کو بھی بخش دے گا۔