کی صحبت کی برکتیں پاتے ہوئے اللہ عزوجل کی رضا کے لئے تہجد ادا کررہا ہوں تو یہ ریاکاری نہیں ہے کیونکہ اگریہی اسلامی بھائی اپنے گھر پر ہوتاتونیندکے غلبہ کے سبب رات کی عبادت نہ کرسکتایااس میں سستی ہوجاتی یاگھرکے دیگر معاملات میں مشغول ہوجاتا۔ ایسی صورت میں شیطانی وسوسوں کی طرف توجہ نہ دے کیونکہ ایسے موقع پرانسان اکثرشیطانی وسوسے کاشکارہوجاتاہے یوں کہ شیطان اس سے کہتا ہے کہ'' جو کام تو گھر پر نہیں کرتااگر لوگوں کے سامنے کریگاتو ریاکار بن جائے گا ۔''اوریوں انسان نیکیوں سے محروم ہوجاتاہے ۔
(۲)اور اگروہ اسلامی بھائی دوسروں کے ساتھ تہجد اس لئے پڑھتا ہے کہ لوگ اس کی تعریف کریں یااس لئے کہ تہجد نہ پڑھنے پر کہیں کوئی مجھے سست اور غافل نہ سمجھے تویہ ریا کاری ہے کیونکہ اس کا لوگوں سے مدح وتعریف کی خواہش رکھنایااللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت خودسے مذمت کودورکرنے یااپنے مرتبے میں کمی کے خوف کی وجہ سے بجالانایہ سب اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی ہے ۔(ایسے اسلامی بھائی کو چاہے کہ نیک عمل چھوڑنے کے بجائے اپنی نیت دُرست کر لے ۔)