| رِیاکاری |
چاہے کیونکہ ان کے خطرات سب سے زیادہ ہیں۔ہم کسی کو یہ اعمال چھوڑنے کا نہیں کہہ رہے کیونکہ ان میں فی نفسہٖ کوئی آفت نہیں بلکہ آفت تووعظ ونصیحت، درس واِفتاء اور روایتِ حدیث میں ریا کاری میں مبتلا ہو نے میں ہے، لہٰذا جب تک آدمی کے پیشِ نظر کوئی دینی منفعت ہوتو اسے ان اعمال کو ترک نہیں کرنا چاہے، اگرچہ اس میں ریاکاری کی ملاوٹ بھی ہو جائے بلکہ ہم تو اسے ان اعمال کے بجا لانے کے ساتھ ساتھ نفس سے جہاد کرنے، اخلاص اپنانے اور ریاکے خطرات بلکہ اس کے شائبہ تک سے بھی بچنے کا کہہ رہے ہیں۔
(احیاء علوم الدین،کتاب ذم الجاہ والریاء،ج۳،ص۳۹۹ تا۴۰۱ ملخصاً)
ا یک وسوسہ اور اس کا جواب
ایک اسلامی بھائی عاشِقان رسول کے ساتھ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافلے میں سفر کرتا ہے ۔جب جدول کے مطابق رات میں وقت مناسب پر راہِ خدا(عزوجل) کے مسافراسلامی بھائیوں نے بیدار ہوکر تہجد ادا کی تو انہیں دیکھ کر اِس اسلامی بھائی نے بھی ہمت کی اور نمازِ تہجد پڑھی حالانکہ وہ تہجد ادا کرنے کا عادی نہ تھا ، اسے وسوسہ آیا کہ شایدیہ ریاکاری ہے مگردرحقیقت ایسا نہیں ہے بلکہ اس کی چند صورتیں ہیں ؛
(1)اگرمذکورہ اسلامی بھائی نمازِتہجداوردیگر نیکیوں میں اوروں کی موافقت اس لئے کرتاہے کہ یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دین سے مخلص ہیں اورانہوں نے تہجد کی سعادت پانے یاصدائے مدینہ لگانے کے لئے اپنی نیندکوقربان کردیاہے،میں بھی ان