| رِیاکاری |
ہوں یا لوگوں کو دکھانے کے لئے ،پھراپنی نیت کو درست کرتے ہوئے صرف اورصرف رضا ئے الہٰی عَزَّوَجَلَّ پانے کے لئے اس نیکی کو کرنا چاہيے۔
نیت دُرُست ہونے کا انتظار
یاد رکھئے! اعمال دو طرح کے ہوتے ہیں ؛(۱) وہ جن کا تعلق صرف ہماری ذات سے ہوتا ہے جیسے روزہ، نماز اور حج وغیرہ۔ اگرایسے عمل کا مقصد صرف لوگوں کو دکھانا ہو تو یہ خالص گناہ ہے لہٰذا جب تک نیت دُرُست نہ ہوجائے اس عمل کو نہ کیا جائے ۔ہاں! اگر نیت درست ہونے کے انتظار میں کوئی فرض یا واجب ترک ہوتا ہو مثلاً جماعت چھوٹ جائے یا نماز ہی قضا ہوجانے کا اندیشہ ہوتو تاخیر کی اجازت نہیں ۔
(۲) وہ اعمال جن کا تعلق مخلوق سے ہوتا ہے مثلاً خلافت ، قضا، وعظ و نصیحت، تدریس وافتا ء وغیرہ۔ حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک شخص نے نمازِ فجر سے فراغت کے بعد لوگوں کو نصیحت کرنے کی اجازت چاہی تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو منع فرما دیا، تو اس نے عرض کی: ''کیا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھے لوگوں کو وعظ کرنے سے روک رہے ہیں؟''تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا : ''مجھے خوف ہے کہ کہیں تم پھول کر آسمان تک نہ پہنچ جاؤ۔''
(احیاء علوم الدین،کتاب ذم الجاہ والریاء،ج۳،ص۴۰۰)
حضرتِ سیدنا امام محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی ہمیں سمجھاتے ہوئے لکھتے ہیں: لہٰذا انسا ن کو وعظ ونصیحت اور علم کے بارے میں وارِد فضائل سے دھوکا نہیں کھانا