Brailvi Books

رِیاکاری
53 - 167
لین دَین یقینی ہے توپہلے سے رقم طے کرنا واجِب ہے،ورنہ دینے والا اور لینے والا دونوں گنہگار ہوں گے۔
دین کو دُنیا کمانے کا ذریعہ نہ بنائيے
    اِمامت،خطابت، مؤذنی،تدریس یقینا عمدہ عبادت ہے اور ان پر اُجرت لینا بھی جائز ہے مگراِنہیں دُنیا کمانے کا ذریعہ نہ بنایا جائے کیونکہ دین کے بہانے دُنیا کمانے والوں کے لئے احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں بھی آئی ہیں۔چنانچہ رسولِ اکرم، نورِ مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آخر زمانہ میں کچھ لوگ ظاہر ہوں گے جو دین کے بہانہ سے دنیا کمائیں گے، لوگوں کے سامنے بھیڑ کی کھال پہنیں گے، ان کی زبانیں شکر سے زیادہ میٹھی ہوں گی اور ان کے دل بھیڑیوں کے سے ہوں گے۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا مجھے دھوکا دیتے ہیں یا مجھ پر جراء ت کرتے ہیں،میں اپنی قسم فرماتا ہوں کہ ان لوگوں پر انہی  سے ایسا فتنہ بھیجوں گا جوبُردبا رکو حیران کر چھوڑے گا ۔
 ( جامع الترمذی،کتاب الزھد،باب ماجاء فی ذھاب البصر،الحدیث۲۴۱۲،ج۴،ص۱۸۱)
    حکیم الامت حضرت مولانامفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں: یہاں دونوں معنی بن سکتے ہیں یعنی دنیا کو دین کے ذریعہ دھو کا دیں گے یا دین کے بہانہ دنیا کمائیں گے لوگ اسلام کا نام لے کر قرآن کی آڑ میں جبہ و دستار سے فریب دے کر دنیا کماتے ہیں یہ لوگ بدترین خلق ہیں۔
 (مِرْاٰۃ المناجیح ،ج۷،ص۱۳۳)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
Flag Counter