Brailvi Books

رِیاکاری
52 - 167
کس چیز کا اَموات (یعنی مرنے والوں) کو بھیجیں گے؟ گناہ پر ثواب کی اُمّید اور زیادہ سخت واَشَد(یعنی شدید ترین جُرم) ہے۔اگر لوگ چاہیں کہ ایصالِ ثواب بھی ہو اور طریقۂ جائزہ شَرْعِیہ بھی حاصِل ہو (یعنی شرعاً جائز بھی رہے ) تو اُوس کی صورت یہ ہے کہ پڑھنے والوں کو گھنٹے دو گھنٹے کے لئے نوکر رکھ لیں اور تنخواہ اُتنی دیر کی ہرشَخْص کی مُعَیَّن(مقرّر) کردیں ۔مَثَلاً پڑھوانے والا کہے ،میں نے تجھے آج فُلاں وَقْت سے فُلاں وَقْت کیلئے اِ س اُجرت پر نوکر رکھا (کہ)جو کام چاہوں گا لوں گا۔وہ کہے ، میں نے قَبول کیا۔اب وہ اُتنی دیر کے واسطے اَجِیر(یعنی مُلازِم) ہوگیا۔جو کام چاہے لے سکتا ہے اس کے بعد اُوس سے کہے فُلاں میِّت کے لئے اِتنا قراٰنِ عظیم یا اِس قَدَر کلِمۂ طیِّبہ یا دُرُود پاک پڑھ دو۔ یہ صورت جواز (یعنی جائز ہونے) کی ہے۔(کیونکہ اب ان کی ذات سے منافع پر اِجارہ ہے، طاعات وعبادات پر نہیں ہے)''
 (فتاویٰ رضویہ ج۱۰ص۱۹۳،۱۹۴ )
    اِ س مبارَک فتویٰ کی روشنی میں امامت ،اذان اور تدریس کرنے والوں کی بھی ترکیب ہوسکتی ہے۔مسجِد یا مدرسے کی انتظامیہ اُجرت طے کرکے معیّن وقت مثلاً 5گھنٹے کے لئے قاری صاحب کو نوکری کی آفر کرتے ہوئے کہیں کہ ہم جو کام دیں گے وہ کرنا ہوگا،تنخواہ کی رقم بھی بتادیں۔ اگرقاری صاحِب منظور فرمالیں گے تووہ ملازم ہو گئے۔اب روزانہ اُن کی اِن پانچ گھنٹوں کے اندر ڈیوٹی لگادیں کہ وہ بچوں کو قراٰن پڑھا دیا کریں۔ یادرکھئے! چاہے امامت ہو یا خطابت ، مؤَذِّنی ہو یا کسی قسم کی مَزدوری جس کا م کیلئے بھی اِجارہ کرتے وقت یہ معلوم ہو کہ یہاں اُجرت یاتنخواہ کا
Flag Counter