Brailvi Books

رِیاکاری
51 - 167
اجرت لینے والے مؤذن کو اذان دینے کا ثواب ملنے یا نہ ملنے کی بحث میں لکھتے ہیں : ''ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر وہ (یعنی مؤذن ) رضائے الہٰی کا قصد کرے لیکن اوقات کی پابندی اور اس کام میں مصروفیت کی بنا پر اپنے عیال کے لئے قدرِ کفایت روزی نہ کماسکے ۔ چنانچہ وہ اس لئے اجرت لے کہ روزی کمانے کی مصروفیت کہیں اسے اِس سعادتِ عظمیٰ سے محروم نہ کروا دے اور اگر اسے مذکورہ مجبوری نہ ہوتی تو وہ اجرت نہ لیتا توایسا شخص بھی مؤذن کے لئے ذکرکردہ ثواب کا مستحق ہوگا بلکہ وہ دوعبادتوں کا جامع (یعنی جمع کرنے والا)ہوگا ،ایک اذان دینا اور دوسری عیال کی کفالت کے لئے سعی کرنا ،اور اعمال کا ثواب نیتوں کے مطابق ہوتا ہے ۔''
 (ردالمحتار،مطلب فی المؤذن اذا کان۔۔۔۔۔۔الخ، ج۲، ص۷۴ )
ثواب حاصل کرنے کا آسان طریقہ
     بہتر یہ ہے کہ اجارہ کام کے بجائے وقت پر کرے ، اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ ثواب کی نیت کرنے والے کو اُجرت کے ساتھ ساتھ اِن شاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ پڑھانے کا ثواب بھی ملتا رہے گا ۔ اعلیٰ حضرت،امامِ اہلسنّت مولیٰنا شاہ احمدرضاخان علیہ رحمۃالرحمن کی بارگاہ میں اُجرت دے کرمیِّت کے ایصالِ ثواب کیلئے خَتْمِ قرٰان وذکرُ اللہ عَزَّوَجَلَّ کروانے سےمُتَعَلِّق جب اِسْتِفتاء پیش ہوا تو جوا باً ارشاد فرمایا:'' تلاوتِ قراٰن وذکرِ الٰہی عزوجل پر اُجرت لینا دینا دونوں حرام ہے۔لینے دینے والے دونوں گنہگار ہوتے ہیں اور جب یہ فِعلِ حرام کے مُرتَکِب ہیں تو ثواب
Flag Counter