لہٰذا اگر سخت مجبوری نہ ہو توبلااُجرت ان خدمات کو انجام دے کر آخرت کے لئے ثواب کا خزانہ اکٹھا کیجئے کہ جس کاعمل ہوبے غرض اُس کی جزاکچھ اور ہے۔مگر بلامعاوضہ مذکورہ خدمات انجام دینے میں ایک امتحان سخت امتحان یہ ہے کہ جو بغیر اجرت لئے امامت یا تدریس وغیرہ کرتا ہے اُس کی کافی واہ !واہ! ہوتی ہے ایسی صورت میں وہ بے چارہ اپنے آپ کونہ جانے کس طرح ریاکاری سے بچاپاتا ہوگا!زہے مقدّر !ایسا جذبہ نصیب ہوجائے کہ تنخواہ لے لے اور چُپ چاپ خیرات کردے مگر اپنے قریبی کسی ایک اسلامی بھائی بلکہ گھر کے کسی فرد کو بھی نہ بتائے، ورنہ ریاکاری سے بچنا دشوار ہوجائے گا۔لُطف تو اسی میں ہے کہ بندہ جانے اور اُس کا ربّ عَزَّوَجَلَّ جانے۔