Brailvi Books

رِیاکاری
50 - 167
گے کہ امامت بیچ چکے،(۳) جائز ہے اور ان کیلئے آخرت میں ان پر ثواب کچھ نہیں، واللہ تعالٰی اعلم۔
 (فتاوٰ ی رضویہ،ج۱۹،ص۴۹۴ )
    لہٰذا اگر سخت مجبوری نہ ہو توبلااُجرت ان خدمات کو انجام دے کر آخرت کے لئے ثواب کا خزانہ اکٹھا کیجئے کہ جس کاعمل ہوبے غرض اُس کی جزاکچھ اور ہے۔مگر بلامعاوضہ مذکورہ خدمات انجام دینے میں ایک امتحان سخت امتحان یہ ہے کہ جو بغیر اجرت لئے امامت یا تدریس وغیرہ کرتا ہے اُس کی کافی واہ !واہ! ہوتی ہے ایسی صورت میں وہ بے چارہ اپنے آپ کونہ جانے کس طرح ریاکاری سے بچاپاتا ہوگا!زہے مقدّر !ایسا جذبہ نصیب ہوجائے کہ تنخواہ لے لے اور چُپ چاپ خیرات کردے مگر اپنے قریبی کسی ایک اسلامی بھائی بلکہ گھر کے کسی فرد کو بھی نہ بتائے، ورنہ ریاکاری سے بچنا دشوار ہوجائے گا۔لُطف تو اسی میں ہے کہ بندہ جانے اور اُس کا ربّ عَزَّوَجَلَّ جانے۔
مرا ہر عمل بس ترے واسطے ہو		کر اخلاص ایسا عطا یا الہٰی
اُجرت لینے والے کے لئے ثواب کی ایک صورت
    اگراہل وعیال کے اخراجات کسی کے ذمّے ہوں اور وہ اس نیت سے مذکورہ خدمات کی اجرت لے کہ اگر مجھ پر اپنے گھر والوں کی کفالت کی ذمہ داری نہ ہوتی تو میں پڑھانے کی اجرت کبھی نہ لیتا تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید ہے کہ اسے دُ گناثواب ملے گا جیسا کہ علامہ ابنِ عابدین شامی علیہ رحمۃاللہ الغنی رَدُّالْمُحْتَار میں
Flag Counter