| رِیاکاری |
حج کرنا ہے اور یہ کہ موقع مل جائے گا تو مال بھی بیچ لوں گا تو حج کا ثواب ہے۔ اسی طرح اگر جمعہ پڑھنے گیا اور بازار میں دوسرے کام کرنے کا بھی خیال ہے، اگر اصلی مقصود جمعہ ہی کو جانا ہے تو اس جانے کا ثواب ہے اور اگر کام کا خیال غالب ہے یا دونوں برابر تو جانے کا ثواب نہیں۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
خدمتِ دین پر اُجرت لینا کیسا ؟
اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن فتاوٰی رضویہ ( مُخَرَّجہ)جلد 19صَفْحَہ494 پر فرماتے ہیں:قرآن عظیم کی تعلیم، دیگر دینی علوم ،اذان اور امامت پر اجرت لینا جائز ہے جیسا کہ متاخرین ائمہ نے موجودہ زمانہ میں شعائرِدین وایمان کی حفاظت کے پیش نظر فتوٰی دیا ہے اور باقی طاعات مثلا زیارتِ قبور، اموات کے لئے ختمِ قرآن ، قرا ء ت ، میلاد ِپاک سید الکائنات علیہ وعلی آلہٖ افضل الصلوٰۃ والتحیات، پر اصل ضابطہ کی بناء پر منع باقی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
کیا اُجرت لینے والے کو ثواب ملے گا؟
کسی نے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃالرّحمٰن سے پوچھاکہ امامِ جمعہ اور امام پنجوقتہ کا اکثر جگہوں پر تنخواہ کرکے لینا جائز یا نہیں؟تعلیمِ قرآن اور تعلیمِ فقہ واحادیث کی اُجرت لینا جائز ہے یانہیں؟تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ان سوالات کا بالترتیب جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:(۱) جائز ہے مگر اِمامت کا ثواب نہ پائیں