| رِیاکاری |
(1)دنیوی نفع کا اِرادہ ، نیتِ ثواب پر غالب ہوگا تو ثواب نہیں ملے گا ۔
(2)دنیوی نفع کا اِرادہ ، نیتِ ثواب کے برابر ہوگا توبھی ثواب نہیں ملے گا ۔
(3) نیتِ ثواب دنیوی نفع کے ارادہ پر غالب ہوگی(یعنی دنیوی نفع کا ارادہ ، نیتِ ثواب سے مغلوب ہوگا )تو نیت کے مطابق ثواب ملے گا ۔حضرتِ سیدناامام غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی ارشاد فرماتے ہیں :''اگر دنیا کی نیت غالب ہو تو اسے کوئی ثواب نہیں ملے گا اوراگر آخرت کی نیت غالب ہو تو اسے ثواب ملے گا اور اگردونوں نیتیں برابر ہوں تب بھی ثواب نہیں ملے گا۔''مزید ارشاد فرمایا :''اگر کسی شخص کی عبادت کا لوگوں پر ظاہر ہونا اس کے نشاط میں اِضافہ اور قوت پیدا کرتا ہے اور اگر لوگوں پراس کی عبادت ظاہر نہ ہوتی تب بھی وہ عبادت نہ چھوڑتاپھر اگرچہ اس کی نیت ریا ہی کی ہو تو ہمارا گمان ہے کہ اس کا اصل ثواب ضائع نہ ہو گا، ریا کی مقدار کے مطابق اسے سزا ملے گی جبکہ ثواب کی نیت جتنا ثواب اسے ملے گا۔''
(الزواجر عن اقترف الکبائر،ج۱،ص۷۸)
بہارِ شریعت حصہ 16صفحہ 240میں ہے : جو شخص حج کو گیا اور ساتھ میں اَموالِ تجارت بھی لے گیا، اگر تجارت کا خیال غالب ہے یعنی تجارت کرنا مقصود ہے اور وہاں پہنچ جاؤں گا حج بھی کرلوں گا یا دونوں پہلو برابر ہیں یعنی سفر ہی دونوں مقصد سے کیا تو ان دونوں صورتوں میں ثواب نہیں یعنی جانے کا ثواب نہیں اور اگر مقصود