Brailvi Books

رِیاکاری
47 - 167
شرعی حکم: ریاکاری کی یہ قسم پہلی سے کم درجہ کی ہے ،ایسے شخص کو اصل عبادت کا ثواب تو ملے گا مگر عمدہ پڑھنے کا ثواب نہ ملے گا ۔ریاکاری کا وبال بہرحال اس کی گردن پر ہوگا ۔بہارِ شریعت حصہ 16صفحہ 239پر ہے : ''(ریاکاری کی ) دوسری صورت یہ ہے کہ اصل عبادت میں ریا نہیں، کوئی ہوتا یا نہ ہوتا بہرحال نماز پڑھتا مگر وصف میں ریا ہے کہ کوئی دیکھنے والا نہ ہوتا جب بھی پڑھتا مگر اس خوبی کے ساتھ نہ پڑھتا۔ یہ دوسری قسم پہلی سے کم درجہ کی ہے اس میں اصل نماز کا ثواب ہے اور خوبی کے ساتھ ادا کرنے کا جو ثواب ہے وہ یہاں نہیں کہ یہ ریا سے ہے اخلاص سے نہیں۔''
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
ریائے خالِص اور مَخلُوط
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عبادات میں پایا جانے والا ریا کبھی خالص ہوتا ہے اور کبھی مخلوط(یعنی ملاوٹ والا)؛

    (1) اگر عبادت سے محض مخلوق کو راضی کرنا یا دُنیوی نفع حاصل کرنا مقصود ہوتو اسے ریائے خالص کہتے ہیں ۔اس کا شرعی حکم یہ ہے کہ اگر اصلِ عبادت میں ریا ہوگی تو ثواب سے محروم رہنے کے ساتھ ساتھ ریاکاری کی سزا بھی ملے گی اور اگر ریاکاری وصفِ عبادت میں ہوتو جو خُوبی عبادت میں پیدا ہوئی اس کا ثواب نہیں ملے گا اور ایسے شخص پرریاکاری کا وبال ہوگا۔

اور    (2) اگر دنیوی نفع حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ثوابِ آخرت بھی پیشِ
Flag Counter