اس سے مُراد یہ ہے کہ کوئی شخص لوگوں کو دکھانے کے لئے بہت خوبی کے ساتھ عبادت کرے ۔مثلاً لوگوں کی موجودگی میں ارکانِ نماز بہت عمدگی اور خشوع وخضوع سے ادا کرے اور جب اکیلا ہو تو جلدی جلدی پڑھے۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :''جو شخص یہ کام کرے وہ اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ کی توہین کرتا ہے ۔'' یعنی اسے اِس بات کی پرواہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے خلوت(یعنی تنہائی) میں بھی دیکھ رہا ہے اور جب کوئی آدمی دیکھ رہا ہو تو وہ اچھی طرح نماز پڑھتا ہے۔امام غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی ہمیں یہ بات ایک مثال کے ذریعے یوں سمجھاتے ہیں کہ جو کسی شخص کے سامنے ٹیک لگا کر یا چارزانو بیٹھا ہو،پھر اس شخص کا غلام آجائے تو وہ سیدھا ہوکر اچھی طرح بیٹھ جائے تو یہ شخص اس غلام کو اس کے مالک پر فوقیت دیتا ہے اور یہ یقینااس کے مالک کی توہین ہے ،ریاکار کی حالت بھی یہی ہے کہ وہ مجلس میں اچھی طرح نماز پڑھتا ہے تنہائی میں نہیں یعنی گویابندوں کو ان کے مالک عَزَّوَجَلَّ پر فوقیت دیتا ہے ۔