Brailvi Books

رِیاکاری
45 - 167
مستحق ہوگا ۔ رو زِ قیامت اُس سے کہا جائے گا : ''او فاجِر! اوغادِر !او خاسِر!او کافِر!تیرا عمل حَبط (یعنی ضائع)ہوا، اپنا اجر اُس سے مانگ جس کے لئے کر تا تھا۔''
(ملتقطاً، شعب الایمان، باب فی اخلاص العمل ۔۔۔۔۔۔الخ ، الحدیث ۶۸۳۱، ج۵، ص۳۳۳)
یہی ایک برائی رِیا کی مذمت کو کافی ہے ۔
(ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ،حصہ اول ص۱۷۷مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
    صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ بہارِ شریعت حصّہ 16 صَفْحَہ238پر فرماتے ہیں :''عبادت کوئی بھی ہو اس میں اِخلاص نہایت ضروری چیز ہے یعنی محض رضائے الٰہی کے لیے عمل کرنا ضرور ہے۔ دکھاوے کے طور پر عمل کرنا بالاجماع حرام ہے۔'' صفحہ 239پرمزید فرماتے ہیں :''لوگوں کے سامنے نماز پڑھتا ہے اور کوئی دیکھنے والا نہ ہوتا تو پڑھتا ہی نہیں یہ ریائے کامل ہے کہ ایسی عبادت کا بالکل ثواب نہیں۔''

    حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان فرماتے ہیں :''ریا والی عبادت گُھنے ہوئے تُخم(یعنی وہ بیج جسے گھن (کیڑے) نے کھا کر اندر سے ریزہ ریزہ کرکے بیکارکر دیا ہو) کی طرح ہے جس سے پیداوار نہیں ہوتی۔''
(مِرْاٰۃ المناجیح ،ج۷،ص۱۴۳)
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگر کسی کو فرض ادا کرنے میں ریا کی مُدَاخَلَت کا اندیشہ ہو تو اس مداخلت کی وجہ سے فرض نہ چھوڑے بلکہ فرض ادا کرے اور ریا کو دُور اور اِخلاص حاصل کرنے کی کوشش کرے۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
Flag Counter