اس کی صورت یہ ہے کہ کوئی شخص لوگوں کے سامنے تو عبادت کرے ،اگر کوئی دیکھنے والا نہ ہوتو نہ کرے۔ مثلاً لوگوں کے سامنے ہو تونماز پڑھے تنہائی میں نہ پڑھے ،کوئی دیکھنے والا ہوتوروزہ رکھے ورنہ نہیں۔نماز جمعہ میں لوگو ں کی مذمت کے خوف سے حاضر ہو،لوگوں کے خوف کی وجہ سے رشتہ داروں سے نیک سلوک کرے تو ایسا شخص ریاکار ہے۔
شرعی حکم:ایسے شخص کو عبادت کا ثواب نہیں ملے گا بلکہ یہ سخت گناہ گار اور عذاب ِنار کا حقدار ہے ، علامہ عبدالغنی نابلسی علیہ رحمۃ اللہ الھادی حدیقہ ندیہ میں نقل کرتے ہیں :''اگر کسی شخص نے لوگوں کودکھانے کے لئے نمازپڑھی تواس کے لئے کچھ ثواب نہیں اُلٹااس کوگناہ ملے گاکہ اس نے نیکی نہیں بلکہ گناہ کیا۔''
(حدیقہ ندیہ، ج۱،ص۴۷۸،ملخصًا)
لیکن اس کا فرض ادا ہوجائے گا۔اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنّت مُجَدِّد ِ دین وملت الشاہ مولانا احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمن سے کسی نے دریافت کیا کہ اگر ریا کے لئے نماز روزہ رکھا توفر ض ادا ہوگا یا نہیں ؟ ارشادفرمایا : فقہی نماز روزہ ہوجائے گا کہ مُفْسِد(یعنی نمازیا روزہ توڑنے والا کوئی کا م) نہ پایا گیا ، ثواب نہ ملے گا ، بلکہ عذابِ نار کا