Brailvi Books

رِیاکاری
43 - 167
 ''ہاں! اللہ عَزَّوَجَلَّ بندے کا بننا سنورنا اس وقت پسندفرماتا ہے جب وہ اپنے بھائیوں کے پاس جانے لگے۔''
(اتحا ف السادۃ المتقین، کتاب ذم الجاہ والریاء، باب بیان حقیقۃ الریاء ، ج ۱۰، ص ۹۳،۹۴)
    امام غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی اِس حدیث کے تحت لکھتے ہیں :''شفیعِ روزِ شُمار، دوعالَم کے مالک و مختار بَاِذْنِ پروردگارعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے لئے یہ ایک مؤکَّدہ عبادت تھی کیونکہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم مخلوق کو دعوت دینے اورحَتَّی الامکان ان کے دلوں کو دینِ حق کی طرف مائل کرنے پر مامور ہیں کیونکہ اگر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلَّم لوگوں کی نظروں میں معزز نہ ہوتے تو وہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے منہ پھیرلیتے لہٰذا آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلَّم پر لوگوں کے سامنے اپنے عمدہ ترین احوال ظاہر کرنا لازم تھا تا کہ لوگ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلَّم کو ناقابلِ اعتبار سمجھ کر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے منہ نہ پھیریں کیونکہ عام لوگوں کی نگاہ ظاہری احوال پر ہی ہوتی ہے مخفی امور پر نہیں ہوتی۔ نیز آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلَّم کا یہ عمل بھی نیکی ہی تھا۔ یہی حکم علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ اور ان جیسے دیندار لوگوں کے لئے ہے جبکہ وہ اپنی اچھی ہیئت سے وہی نیت کریں جو اُوپر بیان ہوا۔''
(احیاء العلوم،کتاب ذم الجاہ والریاء،فصل الثانی،ج۳، ص۳۶۸)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
Flag Counter