Brailvi Books

رِیاکاری
42 - 167
الکبائر،ج۱،ص۷۸)۔
امام غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہیں:لوگوں کے دلوں میں اپنا مقام بنانا اگر عبادات کے علاوہ دیگر امور سے ہوتو یہ مال طلب کرنے کی طرح ہے لہٰذا حرام نہیں ہے۔
(احیاء العلوم،کتاب ذم الجاہ والریاء،فصل الثانی،ج۳، ص۳۶۸)
حدیقہ ندیہ میں ہے : دنیاوی کام اگرحقیقت کے چھپانے اورجھوٹ سے خالی ہیں اوروہ کام کرنے والاان کی وجہ سے کسی ممنوع ،حرام یامکروہ میں نہیں پڑتاتو ان میں ریا کاری حرام نہیں ۔لیکن ایسی ریاکاری مذموم ہے کیونکہ یہ دین میں ریاکاری کی طرف لے جاتی ہے۔
(الحدیقۃ الندیۃ، ج ۱،ص۴۷۸)
واللہ تعالٰی اعلم
    بہرحال مباح کاموں میں بھی اچھی اچھی نیّتوں کے ساتھ  ثواب  کمایا جاسکتا ہے ۔مثلاً خوشبو لگانے میں اتباعِ سنت، تعظیمِ مسجد ،فرحتِ دماغ اور اپنے اسلامی بھائیوں سے ناپسندیدہ بُودور کرنے کی نیّتیں ہوں تو ہر نیّت کاالگ ثواب ہوگا۔
(اشعۃاللمعات ،ج ۱،ص۳۷)
سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے گیسو مبارک سنوارے
    سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے جب اپنے دولت کدے سے باہرتشریف لانے کا ارادہ فرمايا تو اپنے عمامہ شریف اور گیسوؤں کو دُرُست فرمایا اور آئینہ میں اپنا مبارک چہرہ مُلَاحَظَہ فرمایا تو حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی :''یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! کیا آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم بھی ایسا کر رہے ہیں؟'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
Flag Counter