Brailvi Books

رِیاکاری
41 - 167
ہے۔
(المعجم الاوسط،الحدیث۷۹۲،ج۱،ص۲۳۱)
 اب اِس زمانے میں کسی مخصوص شخص کی نسبت یقین سے کہنا کہ وہ مُنافِق ہے ممکِن نہیں کہ ہمارے سامنے جو اسلام کا دعویٰ کرے ہم اُسے مسلمان ہی سمجھیں گے ۔
(الیواقیت ،ج۲،ص۳۷۳)
جب تک کہ ایمان کے مُنافِی(یعنی ایمان کے اُلٹ) کوئی قَول(بات) یا فعِل(کام) اُس سے سَرزَد نہ ہو۔ البتّہ نِفاق یعنی مُنافَقَت کی ایک شاخ اِس زمانے میں بھی پائی جاتی ہے کہ بَہُت سے بد مذہب اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور دیکھا جائے تو اسلام کے دعوے کے ساتھ ساتھ بَہُت سے ضَروریاتِ دین کا انکار بھی کرتے ہیں۔
( بہارِ شریعت حصہ اوّل ص ۹۶مُلَخَّصاً )
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(2) دُنیوی معاملات میں ریا
    کبھی ریاکاری کا اطلاق اس پر بھی ہوتا ہے کہ کوئی شخص دنیاوی عمل کے ذریعے لوگو ں کے دلوں میں اپنی عزت ومرتبہ قائم ہونے کی خواہش کرے ۔ مثلاً وہ اِس لیے صاف ستھرا ،خوشبو میں بساہوا اور اچھا لباس زیب تن کرتا ہے کہ لوگ اس کی جانب متو جہ ہوں او رگھر میں اس کی حالت اس کے بر خلاف ہوتی ہے۔ لوگوں کے لئے کی جانے والی ہر آرائش و زیبائش اورعزت افزائی کواِسی پر قیاس کر لیجئے۔

شرعی حُکم:ایسی ریاکاری حرام نہیں کیونکہ اس میں دینی معاملات کی تَلْبِیْس(یعنی ملاوٹ) اوراﷲعَزَّوَجَلَّ سے اِسْتِہْزَاء نہیں پایا جاتا
(الزواجرعن اقتراف
Flag Counter