Brailvi Books

رِیاکاری
40 - 167
 (1) ایمان میں ریا
    ظاہری طور پر مسلمان ہونا اور باطن میں اِسلام کوجھٹلانے والا، اِس ریا کو نفاق بھی کہتے ہیں یعنی زَبان سے اسلام کا دعوٰی کرنا اور دل میں اسلام سے انکار کرنا، یہ بھی خالِص کُفر ہے۔ایسا شخص مُنافق ہے اور دعوٰ ئ ایمان میں جھوٹا ہے ۔ پارہ27سورۃ المنافقون کی پہلی آیت میں ارشادِ رب العالمین ہے :
اِذَا جَآءَکَ الْمُنٰفِقُوۡنَ قَالُوۡا نَشْہَدُ اِنَّکَ لَرَسُوۡلُ اللہِ ۘ وَ اللہُ یَعْلَمُ اِنَّکَ لَرَسُوۡلُہٗ ؕ وَ اللہُ یَشْہَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیۡنَ لَکٰذِبُوۡنَ ۚ﴿۱﴾
ترجمۂ کنزالایمان :جب منافق تمہارے حضور حاضر ہوتے ہیں کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ حضور بیشک یقیناًاﷲ کے رسول ہیں اور اﷲ جانتا ہے کہ تم اس کے رسول ہو، اور اﷲ گواہی دیتا ہے کہ منافق ضرور جھوٹے ہیں۔
ایسے لوگوں کے لئے جہنَّم کا سب سے نِچلاطبقہ ہے۔اللہ عَزَّوَجَلَّ نے قراٰن مجید میں اس کے بارے میں فرمایا :
اِنَّ الْمُنٰفِقِیۡنَ فِی الدَّرْکِ الۡاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ۚ
ترجمۂ کنزالایمان:بے شک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہیں۔(پ۵،النسآء: ۱۴۵)
سرورِ کائنات،شَہَنْشاہِ موجودات صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ظاہِری حیات کے زمانے میں اِس صِفَت کے کچھ افراد بطورِ مُنافِقِین مشہور ہوئے، ان کے باطِنی کُفر کو قرآنِ مجید میں بیان کیا گیا ہے۔ نیز سلطانِ مدینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بعطائے الہٰی عَزَّوَجَلَّ اپنے وسیع عِلم سے ایک ایک کو پہچانا اورنام بَنام فرمادیا کہ یہ یہ منافِق
Flag Counter