(15)گانے باجے کی آواز آنے پر لوگوں کے سامنے کانوں میں انگلیاں ڈال لے تاکہ لوگ اسےمُتَّبِعِ شریعت تصور کریں اور حال یہ ہو کہ گھر یا موبائل وغیرہ میں میوزیکل ٹون والی گھنٹی لگوائی ہو ئی ہو۔
اِسی طرح غور کرتے چلے جائیں گے تو ہمیں پتا چلے گا کہ لباس ،گفتار ، کردار میں کیسے کیسے انداز سے ریا کاری ہوسکتی ہے ۔عین ممکن ہے کہ کسی کی دُکھتی رگ پر ہاتھ پڑ گیا ہو،ایسے اسلامی بھائیوں کو بھی چاہيے کہ ناراض ہونے کے بجائے بعدِ توبہ اپنے علاج کی ترکیب بنائیں۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یاد رہے کہ ہمیں کسی مسلمان کے کسی فعل پر بدگمانی نہیں کرنی کیونکہ بدگمانی حرام ہے اور نیک مسلمان سے حُسنِ ظن رکھنا مُسْتَحَبْ ہے ۔بلکہ ایسے افعال کرنے والوں کو چاہيے کہ ریاکاری کی ان صورتوں کو اپنے آپ میں تلاش کرنے کے بعد علاج کی تدبیر کریں۔