Brailvi Books

رِیاکاری
35 - 167
اگر زندگی میں ایک بار بھی رِیا کار بنا تو گنہگار اور عذابِ نار کا حقدار ہے۔ اسلامی بھائیوں کے سامنے تو سنبھل کر تھوڑا سا کھائے تا کہ یہ تأَ ثُّر قائم ہو کہ واہ بھئی ! اِس نے پیٹ کا قفلِ مدینہ لگایا ہوا ہے اور پھر'' کھاؤں کھاؤں '' کرتا ہوا گھر پہنچے اور بھوکے شیر کی طرح غذاؤں پر ٹوٹ پڑے ایسا شخص پکّا ریا کار اور دوزخ کا حقدار ہے ۔ بے شک وہ اسلامی بھائی بَہُت عَقْلْمند ہے جو دوسروں کے سامنے اِس طرح کھائے کہ اُس کی کم خوری کا کسی کو اندازہ نہ ہو سکے اور گھر وغیرہ میں خوب اچّھی طرح پیٹ کاقفلِ مدینہ لگائے رکھے۔ عمل صِرْف و صرْف اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رِضا کیلئے ہونا چاہے کہ اِخلاص قبولیّت کی کُنجی ہے۔
ریا کاریوں سے بچا یا الہٰی 

کر اِخلاص مجھ کو عطا یا الہٰی
دُوسروں کی موجودگی میں کم کھانے کاطریقے
    (امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ مزید لکھتے ہیں)دوسروں کی موجودَگی میں ریاکاری یا میزبان وغیرہ کے اِصرار سے بچنے کیلئے ایک طریقہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تین انگلیوں سے چھوٹے چھوٹے نوالے لیکر خوب چبا کر کھائیے اور ہمیشہ ا ن سنّتوں کا خیال رکھئے۔ بالخصوص دعوتوں میں اکثر لوگ جلد جلد کھاتے ہیں لھٰذاہو سکتا ہے کھانے کی مشغولیت انہیں آپ سے بے توجُّہ رکھے۔اگر پھر بھی آپ خود کو جلد فارِغ ہوتا محسوس فرمائیں تو اطمینان سے ہڈّیاں چُوستے رہے۔ امّید ہے اس طرح آپ سب
Flag Counter