اگر زندگی میں ایک بار بھی رِیا کار بنا تو گنہگار اور عذابِ نار کا حقدار ہے۔ اسلامی بھائیوں کے سامنے تو سنبھل کر تھوڑا سا کھائے تا کہ یہ تأَ ثُّر قائم ہو کہ واہ بھئی ! اِس نے پیٹ کا قفلِ مدینہ لگایا ہوا ہے اور پھر'' کھاؤں کھاؤں '' کرتا ہوا گھر پہنچے اور بھوکے شیر کی طرح غذاؤں پر ٹوٹ پڑے ایسا شخص پکّا ریا کار اور دوزخ کا حقدار ہے ۔ بے شک وہ اسلامی بھائی بَہُت عَقْلْمند ہے جو دوسروں کے سامنے اِس طرح کھائے کہ اُس کی کم خوری کا کسی کو اندازہ نہ ہو سکے اور گھر وغیرہ میں خوب اچّھی طرح پیٹ کاقفلِ مدینہ لگائے رکھے۔ عمل صِرْف و صرْف اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رِضا کیلئے ہونا چاہے کہ اِخلاص قبولیّت کی کُنجی ہے۔