(3) فقط اِس لئے زبانی بیان کرناکہ لوگ اسے بہت بڑا عالِم تصور کریں یادیکھ کر بیان کرنے سے اِس لئے کتراناکہ سننے والے کہیں اسے جاہل نہ سمجھیں ۔
(4)باہَر عفوودرگزراور عاجزی کا پیکر بنے رہنا اور گھر میں ایسا شیرِبَبرکہ ناک پر مکھی نہ بیٹھنے دے۔
(5)لوگوں کے سامنے خوش اَخلاقی کا اشتہارہواور گھر والے اس کی بداَخلاقی سے بیزارہوں۔
(6)لوگوں کے سامنے خشوع وخضوع سے تمام آداب بجالاتے ہوئے نماز پڑھے اورتنہائی میں ایسی کہ فرائض وواجبات پورے ہونا مشکوک ہوجائے۔
(7)جَلْوَت میں(یعنی لوگوں کے سامنے) تو کھانے ،پینے، بیٹھنے اور دیگر سنتوں پر خوب عمل کرنا ،مگرخَلْوَت( یعنی تنہائی) میں سستی کرنا۔
(8)لوگوں کے سامنے سخاوت کا موقع ملے تو کسی سے پیچھے نہ رہے مگر کوئی اکیلے میں مدد کے لئے درخواست کرے تو حیلے بہانے کرے ۔
(9)کسی دعوت میں جانا پڑے تو اِس لئے کم کھائے کہ شُرَکاء اسے مُتَّبِع سنت(یعنی سنّت کی پیروی کرنے والا) اورقَلِیْلُ الْغِذاء (یعنی کم کھانے والا) تصور کريں مگر جب گھر میں یا بے تکلف دوستوں کے درمیان ہو تو دوسروں کا حصہ بھی چَٹ کرجائے ۔
شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ ہمیں سمجھاتے ہوئے فیضانِ سنت جلد اول صفحہ 752پر لکھتے ہیں :بے شک عمر بھر ڈَٹ کر کھائے تب بھی گنہگار نہیں اور