| رِیاکاری |
کے دلوں میں اس کی عزت ومرتبے میں اضافہ ہوجائے ۔
(15)مناظرانہ اندازِ گفتگو اِس نیت سے اختیار کرنا تاکہ سننے والے اس کی فقاہت اورذہانت کے قائل ہوجائیں۔
خبردار!خبردار!خبردار! کسی بھی مسلمان کو(بالخصوص جن کا ذکر ہوا ) ریاکار گمان نہ کیجئے ،اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃالرّحمٰن فرماتے ہیں: لاکھوں مسائل واحکام، نیت کے فرق سے تبدیل ہوجاتے ہیں۔(فتاوٰ ی رضویہ ،ج۸،ص۹۸)
بدگمانی حرام ہے اور نیک مسلمان سے حُسنِ ظن رکھنا مستحب ہے ۔ ہم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ کلام کے ذریعے ہونے والی ریاکاری کی ان صورتوں کو اپنے آپ میں تلاش کرے ۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
''اپنی نیکیاں چھپائيے''کے پندرہ حُرُوف کی نسبت سے فعل(یعنی عمل )کے ذریعے ریاکاری کی 15صورتیں
(1)گفتگو یا بیان کرنے یا سننے یا نعت شریف پڑھنے یا سننے کے دوران اِس نیت سے آبدیدہ ہوجانا کہ دیکھنے والے اسے خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ رکھنے والا ، بہت بڑا عاشقِ رسول سمجھیں ۔
(2)لوگوں کی موجودگی میں یا کسی محفل میں مسلسل ہونٹ ہلاتے رہنا تاکہ لوگ اسے کثرت سے ذکرُ اﷲعَزَّوَجَلَّ کرنے والا یا دُرُودِ پاک پڑھنے والا سمجھیں ۔