| رِیاکاری |
کہ ''بڑا غیرت مند شخص ہے جو برائی دیکھ کر خاموش نہیں رہ سکتا ۔''حالانکہ اِس نے اپنے گھر میں ہونے والی برائی دیکھ کرکبھی ایسی غیرت نہیں کھائی۔
(10)حافظِ قرآن یا عالِمِ دین کا بلاضرورت اپنا حافظ یا عالِم ہونا اس نیت سے ظاہر کرنا کہ لوگ اس کی آؤبھگت کریں ۔اسے نمایاں جگہ پر بٹھائیں ۔
مدینہ:بہارِ شریعت میں ہے :عالم اگر اپنا عالم ہونا لوگوں پر ظاہر کرے تو اس میں حرج نہیں مگر یہ ضروری ہے کہ تَفَاخُر (فخرجَتانے)کے طور پر یہ اظہار نہ ہو کہ تَفَاخُر حرام ہے بلکہ محض تحدیثِ نعمت الہٰی کے لیے یہ ظاہر ہوا اور یہ مقصد ہو کہ جب لوگوں کو ایسا معلوم ہوگا تو اِستفادہ کریں گے کوئی دین کی بات پوچھے گا اور کوئی پڑھے گا۔(بہار شریعت،حصہ ۱۶،ص۲۷۰)
(11)حج کرنے والے کا بلاضرورت اپنا حاجی ہونا اس نیت سے ظاہر کرنا کہ لوگ اس کی تعظیم کریں ۔
(12)اظہارِ فخر کے لئے مشہور ومعروف مشائخ سے ملاقات یا ان کی صحبت میں رہنے یا ان سے رشتہ داری کا دعوٰی اس نیت سے کرنا کہ لوگ اسے بھی مُعَظَّم سمجھیں اور اس کی راہ میں آنکھیں بچھائیں۔
(13)عاجِزی یا ہمدردی کے ایسے الفاظ بولنا جن کی دل تائید نہ کرتا ہو ، مثلاً میں تو بہت کمینہ ہوں،میں تو آپ کے دَر کا کتا ہوں(اور جب کوئی اسے ان الفاظ سے مخاطب کرنے کی ہمت کربیٹھے تو یہ آپے سے باہر ہوجائے)
(14)اپنی نیکیوں کا بلاضرورت اِظہار اِس نیت سے کرنا تاکہ لوگوں