(1)نپے تُلے الفاظ میں اس نیت سے دینی باتیں کرناکہ لوگوں پر اس کی وسیع دینی معلومات اور فصاحت وبلاغت کا سکّہ بیٹھ جائے کہ میں ایسا قادرُ الکلام ہوں کہ کوئی مجھ سے بڑھ کر اچھے طریقے سے اپنا مُدَّعا بیان کر ہی نہیں سکتا ۔ایسے لوگ اپنے اندازِ گفتگو کے ذریعے نمایاں مقام حاصل کرنے کے خواہاں ہوتے ہیں ۔ واعظین ، مبلغین اور مصنّفین ریاکاری کی اس صورت کا بآسانی شکار ہوسکتے ہیں ۔
(2) مصنف کا کتاب کے مقدمے(یعنی شروع ) میں اِس قسم کے الفاظ لکھنا کہ ''میں نے اتنی بڑی مثلاً 1000صفحات کی کتاب محض 10دن میں لکھی ہے۔'' تاکہ پڑھنے والوں پر اس کے ہمہ وقت دینی کاموں میں مصروف رہنے کی دھاک بیٹھ جائے۔
(3) بیان کرنے والے کا بیان کے آغاز میں اِس طرح کے کلمات کہنا کہ سُننے والے اُسے راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں قربانیاں دینے والا تصور کرتے ہوئے خود کو اس کا احسان مند سمجھیں ۔مثلاً میں 6 دن سے مسلسل سفر پر ہوں ، 13گھنٹے کا سفر کر کے یہاں پہنچا ہوں،بہت تھکا ہوا ہوں ،ابھی کھانا بھی نہیں کھایا تھا مگر بیان کرنے پہنچ گیا ہوں وغیرھا۔
(4)دورانِ گفتگو بات بات پر اپنے دینی کارنامے بیان کرناتاکہ سُننے والے اسے دین کا بہت بڑا خادِم تصور کریں اوراس کی عظمتوں کے قائل ہوجائیں ۔ مثلاً مجھے تو 15سال ہوگئے نیکی کی دعوت عام کرتے ہوئے ،میں اتنے عرصے تک