ایک عورت نے حضرتِ سیدنامالک بن دینار علیہ رحمۃ الغفار کو اِن الفاظ سے پکارا:''اے ریاکار !''آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے عاجزی سے کہا:'' اے خاتون! بصرہ کے لوگ میرا نام بھول گئے تھے ،تو نے اس نام کو تلاش کر لیا۔''
سُبْحَانَ اللہ ! سُبْحَانَ اللہ ! ہمارے اَسلاف سراپااخلاص ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت ہی بُرد بار اور خوش اخلاق ہوا کرتے تھے ۔کوئی کتنا ہی تنگ کرے مگر ان کو اپنے نفس کی خاطر غصہ نہیں آتا تھا، اگر کبھی آبھی جاتا تو دامن صبر ہاتھوں سے ہر گز نہ جاتا۔اگر ہمیں بھی کوئی ریاکار کہہ دے تو آپے سے باہر ہونے کے بجائے صبر کرکے اجر کمانا چاہے ۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ریاکاری سے بچنے کے لئے یہ جاننا بَہُت ضروری ہے کہ ہم کس طرح ریاکاری میں مبتلاء ہوسکتے ہیں ۔چنانچہ ریاکاری کبھی تو زبان کے ذریعے ہوتی ہے اور کبھی فعل کے ذریعے ، اِس کی ضروری تفصیل مُلاحظہ ہو: