(1) اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن فتاوٰی رضویہ جلد 16صفحہ 500پر لکھتے ہیں :''بلاوجہ شرعی مسلمان پر قصدِ ریا کی بدگمانی بھی حرام(ہے )۔''
(2)کسی نے اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃُ ربِّ العزّت سے پوچھا کہ ایک صاحب نے چندہ (دیکر)مسجد بنوانے کی کوشش کی، اِسی وجہ سے اپنا نام بھی پتھر میں کَنْدَہ کرانا چاہتے ہیں آیا نام کا کندہ کرانا شرعا درست ہے یانہیں؟اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا :'' نام کندہ کرانے کا حکم اختلافِ نیت سے مختلف ہوتا ہے اگر نیت ریا ونمود ہے حرام و مردُود ہے اور اگر نیت یہ ہے کہ تابقائے نام (یعنی جب تک نام لکھا رہے) مسلمان دُعا سے یاد کریں تو حرج نہیں، اور حتی الامکان مسلمان کا کام محملِ نیک ہی پر محمول کیا جائے گا۔''