| رِیاکاری |
اب بھی اخلاص نہیں اپنائیں گے ؟ کب تک یونہی غافل رہیں گے؟ آہ!اگر رحمتِ خداوندی شامل ِ حال نہ ہوئی تو ہمارا کیا بنے گا؟
کب گناہوں سے کنارہ میں کروں گا یا رب
نیک کب اے میرے اﷲ ! بنوں گا یارب
دردِ سر ہو یا بخارمیں تڑپ جاتا ہُوں
میں جہنم کی سزاکیسے سہوں گا یاربمیٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اِس سے پہلے کہ موت ہمیں عمدہ بچھونے سے اٹھا کر قبر میں فرشِ خاک پرسُلا دے ،ہمیں چاہيے کہ ریاکاری کی تاریکی سے نجات پانے کے لئے اپنے سینے کو نورِ اخلاص سے منوّر کر لیں ۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
کسی کو ریاکار کہنا کیسا؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ریاکاری کی معلومات حاصل کرنے میں اپنی اصلاح مقصودہونی چاہے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم شیطٰن کے بچھائے ہوئے ریاکاری کے جال سے بچتے بچتے بدگمانی کے چنگل میں جاپھنسیں ،لہٰذا کسی بھی مسلمان کو ہر گز ریاکار قرار نہ دیجئے کیونکہ کسی کے ریاکار یا مُخلص ہونے کا انحصار اس کی نیت پر ہے ۔ شہنشاہِ مدینہ، قرارِقلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا:'اَعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔''
(صحیح البخاری، الحدیث۱،ج۱، ص۱)
اور نیت کا تعلق دل سے ہے ، ہمارے پاس کوئی ایسا آلہ یا ذریعہ موجود نہیں کہ کسی کے