( صحیح البخاری ،باب صفۃ الجنۃ والنار ، الحدیث۶۵۶۱،ج۴،ص۲۶۲)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ذرا تصور توکیجئے کہ اگر ہمیں رِیاکاری کی سزا کے طور پر جہنم کا صرف یہی عذاب دیا جائے تو بھی ہم سے برداشت نہ ہوسکے گا کیونکہ ہمارے پاؤں اتنے نازُک ہیں کہ کسی گرم انگارے پر جاپڑیں تو پورے وُجود کو اُچھال کر رکھ دیں،معمولی سا سردرد ہمارے ہوش گُم کردیتا ہے تو پھر وہ عذاب جس سے دماغ کھولنے لگے ،برداشت کرنے کی کس میں ہمت ہے ؟مگر آہ! ریاکاروں کو تو جہنم کی اس وادی میں ڈالا جائے گا جس سے جہنم بھی پناہ مانگتا ہے ۔
(اَلْاَمَان وَالْحَفِیْظ )
اسلامی بھائیو! کیا اب بھی ہم ریاکاری سے باز نہیں آئیں گے ،کیا