Brailvi Books

رِیاکاری
25 - 167
محلّات اور جنّت کے دیگرانعامات سے محرومی اورمیدانِ محشر میں سب کے سامنے رُسوائی کا صدمہ ہم کیسے سہیں گے ؟ ہمارا نازُک وجُود جو گرمی یا سردی کی ذرا سی شدت سے پریشان ہوجاتا ہے جہنم کے ہولناک عذابات کیونکر برداشت کر پائے گا ۔ ؎
ہائے!معمولی سی گرمی بھی سہی جاتی نہیں

گرمیِ حشر میں پھر کیسے سہوں گا یا ربّ
جَہَنَّم کا ہلکا ترین عذاب
     حضرت سیِّدُنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسولِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ ''دوزخیوں میں سب سے ہلکا عذاب جس کو ہو گا اسے آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے جن سے اس کا دماغ کھولنے لگے گا۔''
 ( صحیح البخاری ،باب صفۃ الجنۃ والنار ، الحدیث۶۵۶۱،ج۴،ص۲۶۲)
ہمارا نازُک وجود
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ذرا تصور توکیجئے کہ اگر ہمیں رِیاکاری کی سزا کے طور پر جہنم کا صرف یہی عذاب دیا جائے تو بھی ہم سے برداشت نہ ہوسکے گا کیونکہ ہمارے پاؤں اتنے نازُک ہیں کہ کسی گرم انگارے پر جاپڑیں تو پورے وُجود کو اُچھال کر رکھ دیں،معمولی سا سردرد ہمارے ہوش گُم کردیتا ہے تو پھر وہ عذاب جس سے دماغ کھولنے لگے ،برداشت کرنے کی کس میں ہمت ہے ؟مگر آہ! ریاکاروں کو تو جہنم کی اس وادی میں ڈالا جائے گا جس سے جہنم بھی پناہ مانگتا ہے ۔
 (اَلْاَمَان وَالْحَفِیْظ )
اسلامی بھائیو! کیا اب بھی ہم ریاکاری سے باز نہیں آئیں گے ،کیا
Flag Counter