| رِیاکاری |
مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں: یعنی جو کام رضائے الہٰی کے لیے کئے جاتے ہیں ان میں کسی بندے کی رضا کی نیت کرے۔ بندے سے مراد دُنیا دار بندہ ہے اور ظاہر کرنا بھی اپنی ناموَری کے لیے ہونا مراد ہے لہٰذا جو شخص اپنی عبادت میں حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی رضا کی بھی نیت کرے یا جو کوئی مسلمانوں کو سکھانے کی نیت سے لوگوں کو اپنے اعمال دکھائے وہ اِس وعید میں داخل نہیں۔
(مِرْاٰۃ المناجیح ،ج۷،ص۱۳۰)
(22) ریا کار کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں
حضرت سیدنا اُبَیْ بن کَعْب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم ، نُورِ مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ،''اس اُمت کو روشنی وبلندی او رزمین میں اختیارات کی خوشخبری سناؤ اور جس نے آخرت کا عمل (یعنی نیکی)دنیا کے لیے کیا اس کاآخرت میں کوئی حصہ نہیں ۔''
(مجمع الزوائد ،کتاب الزھد، با ماجاء فی الریاء ،الحدیث ۱۷۶۴۶ ، ج ۱۰ ،ص ۳۷۶)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
ہمارا کیا بنے گا؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سخت تشویش کا مقام ہے کہ اگر اِخلاص نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں بھی ریاکاروں کی صف میں کھڑا کردیا گیا تو ہماراکیا بنے گا ؟ رب عَزَّوَجَلَّ کی ناراضی، دودھ وشہد کی بہتی ہوئی نہریں،جنّت کی حُوریں ، عالیشان