| رِیاکاری |
یہاں قاری سے مرادوہ بے دین علماء ہیں جو اچھے اعمال کے لباس میں لوگوں کے سامنے آئیں اور لوگوں کو گمراہ اور بے دین بنائیں تاکہ ان سے دولت لے کران کی بدکا ریوں کو جائز ثابت کریں اور ظلم میں ان کے مدد گار ہوں بلکہ چاپلوس عالم بھی خطرناک ہے جو ہر جگہ پہنچ کر وہاں جیسا بن جائے ہمارا اللہ ،نبی ،قران وکعبہ ایک، دین بھی ایک ہونا چاہے۔
(مراٰۃ المناجیح ،ج۱،ص۲۲۹)
(21) اپنا اجر اسی سے مانگ جس کے لئے عمل کیا تھا
ریا کار کے لیے ایک بڑا نقصان وخَسارَہ یہ ہے کہ جب لوگو ں کو ان کے اَعمال کا ثواب ملے گااور ان پر اِنعامات کی بارش ہوگی تو رِیا کار کی تمام لوگو ں کے سامنے بے عزتی ہوگی۔ اس سے کہا جائے گا ، تو نے اپنے عمل کے ذریعے اﷲ عَزَّوَجَلَّ کی رضانہیں چاہی بلکہ تیرا مقصود یہ تھا کہ لوگ تیری تعریف کریں تو تُو ان کے پاس جااور ان ہی سے اپنا اِنعام وصول کر اور وہ لوگ کیونکر کچھ دے سکیں گے کیونکہ وہ تو خود ایک ایک نیکی کے محتاج ہو ں گے ۔چنانچہ حضرت سیدنا ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ واٰلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ''جب اللہ عَزَّوَجَلَّ تمام اگلوں اور پچھلوں کوقیامت کے دن جمع فرمائے گا تو ایک مُنادِی یہ نداء کریگا کہ جس نے کسی عمل میں کسی کو شریک کیا (یعنی ریا کاری کی) تو اسے چاہیے کہ وہ اپنا ثواب اس ہی سے لے کیونکہ اﷲعَزَّوَجَلَّ شرک سے بے پرواہ ہے۔''
(جامع الترمذی ،کتاب التفسیر ، باب ومن سورۃ الکھف ، الحدیث ۳۱۶۵ ، ج ۵، ص ۱۰۵)