Brailvi Books

رِیاکاری
23 - 167
    یہاں قاری سے مرادوہ بے دین علماء ہیں جو اچھے اعمال کے لباس میں لوگوں کے سامنے آئیں اور لوگوں کو گمراہ اور بے دین بنائیں تاکہ ان سے دولت لے کران کی بدکا ریوں کو جائز ثابت کریں اور ظلم میں ان کے مدد گار ہوں بلکہ چاپلوس عالم بھی خطرناک ہے جو ہر جگہ پہنچ کر وہاں جیسا بن جائے ہمارا اللہ ،نبی ،قران وکعبہ ایک، دین بھی ایک ہونا چاہے۔
 (مراٰۃ المناجیح ،ج۱،ص۲۲۹)
 (21) اپنا اجر اسی سے مانگ جس کے لئے عمل کیا تھا
    ریا کار کے لیے ایک بڑا نقصان وخَسارَہ یہ ہے کہ جب لوگو ں کو ان کے اَعمال کا ثواب ملے گااور ان پر اِنعامات کی بارش ہوگی تو رِیا کار کی تمام لوگو ں کے سامنے بے عزتی ہوگی۔ اس سے کہا جائے گا ، تو نے اپنے عمل کے ذریعے اﷲ عَزَّوَجَلَّ کی رضانہیں چاہی بلکہ تیرا مقصود یہ تھا کہ لوگ تیری تعریف کریں تو تُو ان کے پاس جااور ان ہی سے اپنا اِنعام وصول کر اور وہ لوگ کیونکر کچھ دے سکیں گے کیونکہ وہ تو خود ایک ایک نیکی کے محتاج ہو ں گے ۔چنانچہ حضرت سیدنا ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ واٰلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ''جب اللہ عَزَّوَجَلَّ تمام اگلوں اور پچھلوں کوقیامت کے دن جمع فرمائے گا تو ایک مُنادِی یہ نداء کریگا کہ جس نے کسی عمل میں کسی کو شریک کیا (یعنی ریا کاری کی) تو اسے چاہیے کہ وہ اپنا ثواب اس ہی سے لے کیونکہ اﷲعَزَّوَجَلَّ شرک سے بے پرواہ ہے۔''
 (جامع الترمذی ،کتاب التفسیر ، باب ومن سورۃ الکھف ، الحدیث ۳۱۶۵ ، ج ۵، ص ۱۰۵)
Flag Counter