| رِیاکاری |
کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ ہدايت نشان ہے: ''میں شریک سے بے نیاز ہوں جس نے کسی عمل میں کسی کو میرے ساتھ شریک کیا میں اسے اور اس کے شرک کو چھوڑ دوں گا۔'' اور جب قیامت کادن آئے گا تو ایک مُہربند صحیفہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں نصب کیاجائے گا اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے ملائکہ سے ارشاد فرمائے گا :''اِنہیں قبول کر لو اور اُنہیں چھوڑ دو۔'' فرشتے عرض کریں گے :''یارب عَزَّوَجَلَّ ! تیری عزت کی قسم! ہم ان میں خیر کے علاوہ کچھ نہیں پاتے۔'' تو اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرمائے گا :''تم درست کہتے ہومگر یہ میرے غیر کے لئے ہیں اور آج میں صرف وہی اعمال قبول کروں گا جو میری رضا کے لئے کئے گئے تھے۔''
(کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال ،حرف الراء، باب الریاء،الحدیث:۷۴۷۱،۷۴۷۲،ج۳،ص۱۸۹)
(20) ریا کارقاری کا انجام
حضرتِ سیِّدُناابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسولِ اکرم ،نُورِ مجسم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: '' جُبُّ الْحُزْن'' سے اﷲ (عَزَّوَجَلَّ ) کی پناہ مانگو! صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا:یارسول اللہ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم! '' جُبُّ الحزن'' کیا ہے ؟ فرمایا:یہ جہنم میں ایک وادی ہے کہ جہنم بھی ہر روز سو مرتبہ اس سے پناہ مانگتا ہے، اس میں وہ قاری داخل ہوں گے جو اپنے اعمال میں ریا کرتے ہیں ۔''
( ''جامع الترمذي''، أبواب الزھد، باب ماجاء في الریاء والسمعۃ، الحدیث: ۲۳۹۰،ج۴، ص۱۷۰)