| رِیاکاری |
ہیں :کوئی شخص سارا دن بادشاہ کے سامنے کھڑا رہے جس طرح خدّام کی عادت ہوتی ہے لیکن اس کا مقصود بادشاہ کا قرب حاصل کرنا نہ ہوبلکہ اس کی کسی کنیز کو دیکھنا ہو تویہ بادشاہ کے ساتھ مذاق ہے تو اس سے زیادہ حقارت کیا ہوگی کہ کوئی شخص اﷲ تعالیٰ کی عبادت اس کے ضعیف بندے کو دکھانے کے لئے کرے جو اس کو بالذات نہ نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان ۔
(احیاء العلوم،کتاب ذم الجاہ والریاء،فصل الثانی،ج۳، ص۳۶۹ملخصًا)
(13) زمین وآسمان میں ملعون
مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے :''جس نے آخرت کے عمل سے زینت پائی حالانکہ آخرت اس کی مراد تھی نہ طلب تو وہ زمین وآسمان میں ملعون ہے۔''
(مجمع الزوائد،کتاب الزھد،باب ماجاء فی الریا، الحدیث:۱۷۹۴۸،ج۱۰،ص۳۷۷)
(14) ریاکاروں کا ٹھکا نا
تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : ''جب کوئی قوم آخرت (کے اعمال)سے آراستہ ہو کر (حصولِ)دنیا کے لئے حسن وجمال کاپیکر بنے تو اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔''
(جامع الاحادیث،الحدیث:۱۱۶۹،ج۱،ص۱۸۳)
(15) اللہ تعالٰی کے ذمّہ کرم سے بری ہوجانے والا
فرمانِ مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: ''جس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ غیرِ خدا کے لئے دکھلاوا کیا تحقیق وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذمۂ کرم سے بَری ہو گیا ۔''
(المعجم الکبیر ،الحدیث ۸۰۵،ج۲۲،ص۳۲۰)