| رِیاکاری |
حکیم الامت حضرت مولانامفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں: ''یعنی جو کوئی عبادات لوگوں کے دکھلاوے( اور) سنانے کے لیے کریگا تو اللہ تعالیٰ دنیا میں یا آخرت میں اس کے عمل لوگوں میں مشہور کردے گا مگر عزت کے ساتھ نہیں بلکہ ذِلَّت کے ساتھ کہ لوگ اس کے عمل سن کر اس پر پھٹکار ہی کریں گے۔
(مِرْاٰۃ المناجیح ،ج۷،ص۱۲۹)
آج بنتا ہوں معزز جو کھلے حشر میں عیب ہائے رسوائی کی آفت میں پھنسوں گا یاربّ
(10) ریا کار پرجنت حرام ہے
شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:''اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ہر رِیاکار پر جنت کو حرام کردیا ہے۔''
(جامع الاحادیث،الحدیث:۶۷۲۵،ج۲،ص۴۷۶)
حضرتِ علامہ محمد عبد الرؤف مناوی علیہ رحمۃ اللہ الھادی اس حدیث کے تحت فَیْضُ الْقَدِیْر شَرْحُ جَامِعِ الصَّغِیْر میں فرماتے ہیں :'' یعنی ریاکار پہلے پہل جنت میں داخل ہونے والے خوش نصیبوں کے ساتھ دُخُولِ جنت کا شرف نہیں پا سکتا کیونکہ اُس نے ایسے شخص کی رعایت میں اپنے آپ کو مشغول کر کے کہ جو حقیقتاً اُس کے کسی نَفْع و نقصان کا مالک ہی نہیں، اپنا عمل ضائع کر دیا اور اپنے دین کو نقصان پہنچایا۔پس ہمیشہ ریا کار اس(ریا کاری کی) گندگی کے سبب لت پت رہتے ہیں تو ان کو