جناب سید ایوب علی صاحب کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ حضور نے جہانگیر خان صاحب قادری رضوی ساکن محلہ چھيپی ٹولہ قلعہ سے فرمایا کہ ''مجھے ایک پیپا مڑی کے تیل کی ضرورت ہے ۔''کیونکہ وہ تیل فروخت کیا کرتے تھے۔چنانچہ وہ ایک پیپا تیل لے کر حاضرہوئے ،حضور نے قیمت دریافت فرمائی ،انہوں نے جو قیمت تھی اس کا اظہار بایں الفاظ فرمایا ''ویسے تو اس کی قیمت یہ ہے مگر حضور کچھ کم کر کے اتنی دے ديں ۔''اس پر حضور نے فرمایا'' مجھ سے وہی قیمت لیجئے جو سب سے لیتے ہیں ۔''انہوں نے عرض کیا'' نہیں! حضور آپ میرے بزرگ ہیں، عالِم ہیں، آپ سے عام بِکری(یعنی قیمت )کے دام کیسے لے سکتاہوں ؟''حضور نے فرمایا'' میں علم نہیں بيچتا ہوں۔'' اوروہی عام بِکری کے دام خان صاحب کو دئيے ۔
(حیاتِ اعلیٰ حضرت،موضوع خود داری،ج۱،ص۱۷۲)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد