امير اَہلسنّت دامت بَرَکاتُہُمُ العالیہ دعوتِ اسلامی کے اوائل ميں جہاں سنتوں بھرا بيان فرما نے تشریف لے جاتے تو کوئی اسلامی بھائی عطريات وغيرہ کا بستہ لگا ليتے جو امير اَہلسنّت دامت بَرَکاتُہُمُ العالیہ کی ملکيت ميں تھامگر ہر ايک کو معلوم نہ تھا۔امامِ مسجد کو کسی طرح يہ معلوم ہو گيا يہ کسبِ حلال کے لئے کوشش کرتے ہيں کسی سے مانگ کر گھر نہيں چلاتے۔ جذبات ميں آکر مائیک پراعلان کر ديا کہ جو باہرعطريات وغيرہ کا بستہ ہے وہ امير اَہلسنّت دامت بَرَکاتُہُمُ العالیہ کی ملکيت ہے۔آپ کسبِ حلال کے لئے کوشش فرماتے ہیں کسی سے سوال نہیں کرتے۔ آپ کے مزاج مبارک پر يہ بات انتہائی گراں گزری کہ یہ لوگوں کو کیوں معلوم ہوا، اب لوگ شاید میری عقیدت میں سامان خریدیں۔ آپ نے بستے پر ہونے والی اس دن کی آمدنی خود اپنے استعمال ميں نہ لائے بلکہ راہِ خدا عزوجل ميں دے دی اورفرمايا کہ ''ميں اپنی عقيدت نہيں بيچ سکتا۔''