Brailvi Books

رِیاکاری
162 - 167
تنکا اٹھايا اور فرمايا کہ ميں کس کو دکھانے کے لئے اعمال کروں گا؟خدا کی قسم! تمام روئے زمين کے دُنيا دار انسان ميری نظر ميں اس تنکے سے بھی زيادہ ذليل ہيں۔
 (سير اعلام النبلاء،ج۷،ص۱۱۰ دارالفکر بيروت)
 (19) یہاں تعویذ نہیں بکتا
    جناب سید ایوب علی صاحب کا بیان ہے کہ ایک صاحب نے بدایونی پیڑوں کی ایک کوری (یعنی بالکل نئی ) ہانڈی پیش کی۔ حضور( یعنی اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے فرمایا'' کیسے تکلیف فرمائی؟'' انہوں نے کہا کہ ''حضور کو سلام کرنے حاضرہوا ہوں ۔''حضور جوابِ سلام فرما کر کچھ دیر خاموش رہے اورپھر دریافت کیا:'' کیا کوئی کام ہے ؟''انہوں نے عرض کیا ''کچھ نہیں حضور! محض مزاج پرسی کے لئے آیا تھا ۔'' ارشاد فرمایا'' عنایت ،نوازش'' اورقدرے سکوت کے بعد حضور نے پھر بایں الفاظ مخاطب فرمایا: ''کچھ فرمائيے گا ؟'' انہوں نے پھر نفی میں جواب دیا۔ اس کے بعد حضور نے وہ شیرینی مکان میں بھجوا دی ۔

    اب وہ صاحب تھوڑی دیر کے بعد ایک تعویذ کی درخواست کرتے ہیں ، ارشادفرمایا کہ'' میں نے تو آپ سے تین باردریافت کیا، مگر آپ نے کچھ نہ بتایا، اچھا تشریف رکھئے ۔''اور اپنے بھانجے علی احمد خاں صاحب مرحوم کے پاس سے تعویذ منگا کر (کہ یہ کام انہیں کے متعلق تھا )ان صاحب کو عطا فرمایا اور ساتھ ہی حاجی کفایت اللہ صاحب نے حضور کا اشارہ پاتے ہی مکان سے وہ مٹھائی کی ہانڈی منگوا کر سامنے رکھ دی، جسے حضور نے بایں الفاظ واپس فرمایا'' اس ہانڈی کو ساتھ لیتے جائيے میرے
Flag Counter