| رِیاکاری |
تھلیاں اُٹھا کر گھر لائے۔پھر حاضرینِ مجلس میں خوب چہ میگوئیاں ہوئیں ۔مگر جب رات ہوئی اور شیخ اکیلے رہ گئے توحضرت سیِّدُنا ابن نُجید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پھر دو ہزار درہموں کی تھیلیاں لے کر شیخ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میرے شیخ ! آپ اس مال کو پوشیدہ طور پر خرچ فرمائيں اور میرا نام ہر گز کسی پرظاہر نہ فرمائيں۔یہ سن کرشیخ ابو عثمان علیہ رحمۃ الرحمن پر حالت گریہ طاری ہوگئی اور فرمانے لگے کہ ابن نُجید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ! تیری ہمت پر صد آفرین ہے !
(بستان المحدثین،جزء ابن نُجید،علامہ ابن نُجید کی خدمات۔۔۔۔۔۔الخ،ص۲۵۲)
(17) بعدِ وصال سخاوت کا پتا چلا
حضرت سيدنا امام زين العابدين رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی زندگی ميں دو مرتبہ اپنا سارا مال راہ خدا عزوجل ميں خيرات کيا اور آپ کی سخاوت کا يہ عالم تھا کہ آپ بہت سے غرباء اہل مدينہ کے گھروں ميں ايسے پوشيدہ طريقوں سے رقم بھیجا کرتے تھے کہ ان غرباء کو خبر ہی نہيں ہوتی تھی کہ يہ رقم کہاں سے آتی ہے؟مگر جب آپ کا وصال ہو گياتو ان غريبوں کو پتا چلاکہ يہ حضرت امام زين العابدين رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سخاوت تھی۔
(سير اعلام النبلاء،ج۵،ص۳۳۶،۳۳۷ دارالفکر بيروت)
(18) ميں کس کے لئے دکھاوا کروں گا؟
جلیل القدر محدث حضرت سيدنا محمد بن عبد الرحمن علیہ رحمۃ الرحمن ايک مرتبہ کسی سے ملنے گئے۔درميان گفتگو ميں اس نے آپ سے کہہ ديا : ميرا خيال ہے کہ آپ کے اعمال ميں کچھ ريا کاری اور دِکھاوے کی بو آتی ہے تو آپ نے فورا زمين سے ايک