Brailvi Books

رِیاکاری
160 - 167
 (16) میرانام ظاہر نہ فرمائیں
    حضرت سیدناابواسمٰعیل بن نُجید نیشاپوری علیہ رحمۃ اللہ القوی ''علمِ حدیث ''میں ''محدث کبیر'' اور'' تصوف'' و''عبادات'' و''معاملات ''میں اپنے زمانے کے ''شیخ اکبر'' ، ''زُہد وتقویٰ ''میں ''یکتائے زمانہ'' اور اپنے دور کے ''ولی کا مل'' تھے۔چنانچہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ا حوال وکرامات کو دیکھ کر عام طور پر لوگ کہا کرتے تھے کہ یہ اپنے وقت کے'' ابدال ''ہیں ۔حضرت سیِّدُنا ابن نُجیدرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے والد بہت مالدار شخص تھے۔میراث میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو بیشمار مال ملا۔ مگر دولت علم وعمل کے اس دھنی نے درہم ودینار کی ساری دولت کو علماء ومشائخ وطلبہ پر نثار کر دیا اور چند ہی دنوں میں میراث کا سارا مال خداعَزَّوَجَلَّ کی راہ میں خرچ کر ڈالا۔ ایک مرتبہ انکے شیخ ابو عثمان حِیری علیہ رحمۃ القوی کو مجاہدین کی ضرورت کے لئے کچھ رقم کی ضرورت آن پڑی۔کہیں سے کچھ انتظام نہ ہوسکا تو شیخ نے سیدنا ابن نُجید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے اس ضرورت کو بیان فرمایا۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فوراً دوہزار درہموں کی تھیلیاں لا کر شیخ کے قدموں پر ڈال دیں۔شیخ بیحد خوش ہوئے اور بھری مجلس میں اس کا اعلان فرمادیا اور لوگوں نے خوب واہ واہ کی ۔مگر ابن نُجید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو انتہائی صدمہ ہو اکہ افسوس! میرا یہ عملِ خیر لوگوں پر ظاہر ہو گیا ۔بے تابانہ مجلس سے اُٹھے اور تھوڑی دیر میں پھر واپس آئے اور بھری مجلس میں شیخ سے عرض کیا کہ حضور! مجھے میرا مال واپس کر دیجئے میں ابھی اس کو خداعَزَّوَجَلَّ کی راہ میں خرچ کرنا نہیں چاہتا ۔ شیخ نے فوراً درہموں کی تھیلیاں ابن نُجید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے سامنے ڈال دیں اور سیِّدُناابن نُجید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
Flag Counter