Brailvi Books

رِیاکاری
159 - 167
جہاد کے لئے طَرَسُوس جاتے ہوئے شہر رَقَّہ کے ايک مسافر خانے ميں قيام فرماتے تو ايک نوجوان آتا،آپ کی ضروريات پوری کرتااور کچھ احاديث پڑھ ليتا تھا۔ايک مرتبہ جب آپ وہاں پہنچے تو وہ نوجوان ملنے نہيں آيا۔ آپ جلدی ميں تھے تو لشکر کے ساتھ چلے گئے جب جنگ سے فارغ ہو کر واپس رقہ پہنچے تولوگوں سے اس کا حال دريافت کيا تو معلوم ہوا کہ کسی کا اس پر قرض چڑھ گيا تھا،قرض خواہ نے نوجوان کو جيل ميں ڈلوا دياہے۔پوچھا:اس پر کتنا قرض ہے؟لوگوں نے جواب ديا :'' دس ہزار درہم ۔''آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ نے رات ميں قرض خواہ کو اپنے پاس بلوايا اور اسے دس ہزار درہم دے کر قسم دی کہ جب تک عبد اللہ زندہ ہے تم اس کے بارے ميں کسی کو نہيں بتاؤ گے اور کہا کہ صبح تم اس نوجوان کو قيد سے آزاد کروا دينا۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ اس کے بعد وہاں سے روانہ ہو گئے ۔نوجوان جيل سے آزاد ہوکر جب شہر آيا تو آپ کی آمد کی اطلاع ملی اور معلوم ہوا کہ کل يہاں سے روانہ ہو گئے ہيں۔يہ نوجوان اسی وقت روانہ ہوا اور چند منزل بعد ملاقات ہو گئی،فرمايا: کہاں تھے؟ ميں نے تمہيں مسافر خانے ميں نہيں ديکھا۔عرض کی :''حضور! قرض کے سبب قيد خانے ميں تھا۔فرمايا:پھر تمہيں آزادی کيسے ملی؟ عرض کی:مجھے معلوم نہيں کس نے ميرا قرض ادا کر ديا جس کی وجہ سے مجھے رہائی مل گئی۔فرمايا :اے نوجوان!خدا کا شکر ادا کرو،اللہ رب العزت نے کسی کو تيرا قرض ادا کرنے کی توفيق دے دی ہو گی۔اس نوجوان کواِس حسن سلوک کاپتا اس وقت چلا جب آپ کا وصال ہو چکا تھا۔
 (تاريخ بغداد،ج۱۰،ص۱۵۸ )
Flag Counter