Brailvi Books

رِیاکاری
158 - 167
 (14) گفتگو کا جائزہ
    ''مِنہاجُ العابدین'' میں ہے،ایک بار حضرت سیدنا فضیل بن عیاض اور حضرت سیدنا سُفیان ثوری رَحِمَہُمَااللہ کی آپس میں مُلاقات ہوئی۔دیر تک گفتگو کرنے کے بعد حضرت سیدنا سُفیان ثوری علیہ رحمۃ الباری نے فرمایا:''میں آج کی اِس صُحبت کو بہترین صُحبت تصور کرتا ہوں۔ حضرت سیدنا فضیل بن عیاض علیہ رحمۃ الرزاق نے فرمایا:''میں تو اِسے خطرناک صحبت خیال کرتا ہوں''۔ حضرت سیدناسفیان ثوری علیہ رحمۃ الباری نے پوچھا کیوں؟ حضرت سیدنا فضیل بن عیاض علیہ رحمۃ الرزاق نے جواب دیا:''کیا ہم دونوں اپنی گفتگو کو مزیّن اور آراستہ نہیں کررہے تھے؟کیا ہم تکلف اور رِیا میں مُبتلا نہیں تھے؟ حضرت سیدناسفیان ثوری علیہ رحمۃ الباری یہ سُن کر رو پڑے۔
 (منھاج العابدین ،ص ۵۳، موئسسۃ السیروان بیروت)
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مقامِ غور ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اِن نیک بندوں کی مُلاقات مُخلصانہ اور اِن کی بات چِیت خالِص اِسلامی تھی مگر خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ کے سبب رو رہے تھے کہ کہیں ہماری گفتگو میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی تو نہیں ہو گئی۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
 (15) میرا قرض کس نے ادا کیا؟
    حضرتِ سيِّدُنا عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ روميوں کے مقابلہ ميں
Flag Counter