Brailvi Books

رِیاکاری
155 - 167
اس مرض سے نجات عطا فرما۔''

    اللہ عَزَّوَجَلَّ نے میری دعاقبول فرمائی اور دوبارہ اس بیماری سے مجھے شفا عطافرمادی۔ لیکن میں پھر اسی طرح نفسانی خواہشات اور نافرمانیوں میں پڑگیا یہا ں تک کہ اب اس مرض میں مبتلا یہاں پڑاہوں، میں نے اپنے گھر والوں کو حکم دیا کہ اس دفعہ بھی مجھے وسط ِ مکان میں نکال دو جیسا کہ آپ مجھے دیکھ رہے ہیں۔ پھر جب میں مصحف شریف منگوا کر پڑھنے لگا توایک حرف بھی نہ پڑھ سکا۔ میں سمجھ گیا کہ اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی مجھ پر سخت ناراض ہے، میں نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھا کر عرض کی: ''یااللہ عَزَّوَجَلَّ! اس مصحف شریف کی عظمت کا صدقہ! مجھ سے اس مرض کو زائل فرمادے ۔'' تو میں نے ہاتف ِ غیبی کی آواز سنی مگر اُسے دیکھ نہ سکا۔ یہ آواز اشعار کی صورت میں تھی، جن کا مفہوم یہ ہے:

    ''جب توبیماری میں مبتلا ہوتا ہے تو اپنے گناہوں سے توبہ کرلیتا ہے اور جب تندرست ہوتا ہے تو پھر گناہ کرنے لگ جاتا ہے۔ توجب تک تکلیف میں مبتلا رہتا ہے توروتارہتا ہے اور جب قوت حاصل کر لیتا ہے تو بُرے کام کرنے لگتا ہے۔ کتنی ہی مصیبتوں اور آزمائشوں میں تو مبتلا ہوا مگر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تجھے ان سب سے نجات عطا فرمائی۔ اس کے منع کرنے اور روکنے کے باوجود تو  گناہوں میں مستغرق رہا اور عرصۂ دراز تک اس سے غافل رہا۔ کیا تجھے موت کا خوف نہ تھا؟ تو عقل اور سمجھ رکھنے کے باوجود گناہوں پر ڈٹا رہا۔ اورتجھ پر جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فضل وکرم تھا، توُ نے اسے بھلا دیا اورکبھی بھی تجھ پر نہ کپکپی طاری ہوئی، نہ ہی خوف لاحق ہوا۔ کتنی مرتبہ تو نے اللہ