Brailvi Books

رِیاکاری
156 - 167
عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ عہد کیا لیکن پھر توڑ دیا، بلکہ ہر بھلی اور اچھی بات کو تو بھول چکا ہے۔ اس جہانِ فانی سے منتقل ہونے سے پہلے پہلے جان لے کہ تمہارا ٹھکانہ قبر ہے، جو ہر لمحہ تجھے موت کی آمد کی خبر سنا رہی ہے۔''

    حضرت سیِّدُنا منصور بن عما ر علیہ رحمۃاللہ الغفار فرماتے ہیں: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں اس سے اس حال میں جدا ہوا کہ میری آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اورابھی گھر کے دروازے تک بھی نہ پہنچا تھا کہ مجھے بتایا گیا کہ وہ شخص انتقا ل کر چکا ہے۔ ہم اللہ عَزَّوَجَلَّ سے حُسنِ خا تمہ کی دعا کرتے ہیں کیونکہ بہت سے روزے دار اور راتوں کو قیام کرنے والے برے خاتمے سے دوچار ہو گئے۔
 (روض الفائق ،المجلس الثانی،ص۱۷)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
 (13) اچھی نیت کا پھل اور بری نیت کا وبال
    منقول ہے کہ دو بھائی تھے، ان میں سے ایک عابداور دوسر افاسق تھا۔ عابد کی آرزو تھی کہ وہ شیطان کو اپنی محراب میں دیکھے، ایک دن اس کے پاس انسانی شکل میں ابلیس آیا اور کہنے لگا: ''افسوس ہے تجھ پر! تو نے اپنی عمر کے چالیس سال نفس کو قید اور بدن کومشقت میں ڈال کر ضائع کر دیئے۔ تمہاری جتنی عمر گزر چکی اتنی ابھی باقی ہے، اپنے نفس کی خواہشات پوری کر کے لذت حا صل کرلے، اس کے بعد دوبارہ توبہ کر لینا اور واپس عبادت کی طرف لوٹ آنا، بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ بخشنے والا، مہربان ہے۔'' یہ سن کر عابد نے اپنے دل میں کہا: ''میں نیچے جاکر اپنے بھائی کے پاس بیس
Flag Counter