کہاں گئیں وہ نمازیں، وہ روزے، تہجد اور راتوں کا قیام؟'' تواس نے مجھے حسرت سے بتایا: ''اے میرے بھا ئی! یہ سب اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضاکے لئے نہیں تھے، بلکہ میں یہ عبادتیں اس لئے کیا کرتا تھاتاکہ لوگ مجھے نمازی، روزے دار، اور تہجدگزار کہیں اور میں لوگوں کو دکھانے کے لئے ذکر ِ الٰہی عَزَّوَجَلّ کیا کرتا تھا۔ جب میں تنہائی میں ہوتا تو دروازہ بند کر لیتا، بَرَہْنَہ ہو کر شراب پیتا،اور نافرمانیوں سے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کا مقابلہ کرتا۔ ایک عرصہ تک میں اِسی طرح کرتا رہا پھر ایسابیمار ہوا کہ بچنے کی امید نہ رہی، میں نے اپنی اسی بیٹی سے کہا کہ قرآنِ پاک لے کر آؤ، اس نے ایسا ہی کیا، میں مصحف شریف کے ایک ایک حرف کو پڑھتا رہا یہاں تک کہ جب سورۂ یٰس تک پہنچا تو مصحف شریف کو بلند کرکے بارگاہ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں عرض کی: ''اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! اس قرآنِ عظیم کے صدقے مجھے شفا عطا فرما، میں آئندہ گناہ نہیں کروں گا۔'' اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھ سے بیماری کودورکر دیا۔ جب میں شفا یا ب ہوا،تو دوبارہ لہو ولعب اور لذات و خواہشات میں پڑ گیا۔ شیطان لعین نے مجھے وہ عہد بھلا دیا جو میرے رب عَزَّوَجَلَّ کے اور میرے درمیان ہواتھا ، عرصۂ دراز تک گناہ کرتا رہا،پھر اچانک اسی بیماری میں مبتلا ہو گیا جس میں میں نے موت کے سائے دیکھے تو گھر والوں سے کہا کہ مجھے میری عادت کے مطابق وسط ِمکا ن میں نکال دیں۔ میں نے مصحف شریف منگوا کر پڑھااور بلند کرکے عرض کی: ''یااللہ عَزَّوَجَلَّ! اس کی عظمت کا واسطہ جو اس مصحف شریف میں ہے، مجھے