Brailvi Books

رِیاکاری
153 - 167
     پیارے اِسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ ہمارے بزرگانِ دین رَحِمَھُمُ اللہُ الْمُبِیْن تعلیم و تعلّم اور تبلیغ واِشاعتِ دین کے خالصاً لِوَجْہِ اللہ ہونے کے متعلق کس قدر حَسَّاس ہوتے تھے کہ صرف اِس بنا پر کسی کا تحفہ لینے سے انکار کردیتے تھے کہ کہیں یہ اس کا عوض نہ بن جائے۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
 (12) گناہوں کی نحوست
    حضرت سیِّدُنا منصور بن عما ر علیہ رحمۃاللہ الغفار ارشاد فرماتے ہیں:'' میراایک اسلامی بھا ئی تھاجوکہ میرا بہت مُعْتَقِد تھا۔ وہ ہردُکھ سُکھ میں مجھ سے ملاقات کرتا۔ میں اس کو انتہائی عبادت گزار، تہجدگزار، اور گریہ وزاری کرنے والا سمجھتا تھا۔ میں نے کچھ دنوں تک اسے نہ پایا اور مجھے بتایا گیاکہ وہ تو بے حد کمزور ہو گیا ہے۔ میں نے اس کے گھر کے متعلق دریافت کرکے اس کے دروازے پر دَسْتک دی تو اس کی بیٹی آئی اور پوچھا: ''کس سے ملناچاہتے ہیں؟'' میں نے کہا: ''فلاں سے۔'' وہ میرے آنے کی اجازت طلب کرنے اندر گئی، پھر لوٹ کرآئی اور کہنے لگی: ''آپ اندر آجائيں۔'' میں نے داخل ہوکردیکھا کہ وہ گھر کے وسط میں بستر پر لیٹا ہوا ہے۔ چہرہ سیاہ، آنکھیں نیلی اورہونٹ موٹے ہو چکے ہیں۔ میں نے اسے ڈرتے ڈرتے کہا: ''اے میرے بھائی!
'' لَااِلٰہَ اِلَّا اللہ''
کی کثرت کرو۔''اس نے اپنی آنکھیں کھولیں اور بڑی مشکل سے میری طرف دیکھا، پھر اس پر غشی طاری ہو گئی۔ میں نے دوسری مرتبہ یہی تلقین کی تو اس نے مجھے بمشکل آنکھیں کھول کر دیکھا لیکن دوبارہ اس پر غشی طاری ہو گئی۔
Flag Counter