Brailvi Books

رِیاکاری
152 - 167
نے اسے لینے سے انکار کرتے ہوئے فرمایا کہ میں تجھ سے یہ تحفہ نہیں لے سکتا، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ کبھی تو نے مجھ سے علم کی کوئی بات سیکھی ہو اور یہ تحفہ اس نیکی کا بدلہ بن جائے ،نتیجتاً میں ثواب سے محروم ہو جاؤں گا۔''ا س نے عرض کی حضور! میں نے کبھی بھی آپ سے علمِ دین نہیں سیکھا۔''آپ نے فرمایا ،''ہاں،یاد آیا تیرے بھائی نے مجھ سے علم دین سیکھا تھا۔''یہ کہہ کر اسے واپس لوٹا دیا۔
 (کمیائے سعادت،فصل نشاط عبادت ہمیشہ ریا نبود،ج۲،ص۷۰۰)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
 (11) ثواب ہی کافی ہے
    حضرت سیدنا عبد الرحمن بن عمراوزاعی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے ایک روز خلیفہ ابو جعفر منصورکو اس کے مطالبے پر کچھ نصیحتیں فرمائیں ۔جب حضرت سیدنا امام اوزاعی علیہ رحمۃ اللہ القوی وہاں سے جانے لگے تو خلیفہ منصور نے تحائف اور رقم وغیرہ آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہی مگر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے تحائف وہَدَایا لینے سے انکار کر دیااور فرمایا:'' مجھے ان چیزوں کی ضرورت نہیں کیونکہ میں اپنی دینی نصیحتو ں کو دنیوی حقیرمال کے بدلے فروخت نہیں کرنا چاہتا ، (یعنی مجھے میرے رب عزوجل کی طرف سے ملنے والا اجر ہی کافی ہے۔)
 (عیون الحکایات،الحکایۃ العشرون،نصائح الاوزاعی للمنصور،ص۴۵)
؎ میرا  ہر عمل بس  ترے واسطے ہو 

کر اخلاص ایسا عطا یا الٰہی
Flag Counter