Brailvi Books

رِیاکاری
149 - 167
،کھانا وغیرہ پیش نہیں کیا جاتا تو رنجیدہ کیوں ہو جاتے ہیں ؟اور اس طرح کے شکوہ سے آپ کیا چاہتے ہیں ؟جیساکہ بعض مُبلِّغین کہہ ڈالتے ہیں کہ میں کیا کروں مجھے تو لِفٹ ہی نہیں ملی یا لوگوں نے پانی تک کو نہیں پوچھا ،مجھے تو آنے جانے کا کرایہ بھی پلے سے دینا پڑا وغیرہ وغیرہ ۔
دل کا چور پکڑ ا گیا
     اسلامی بھائیو! کیا یہ شکوہ آپ کے دل میں چھپے ہوئے چور کو ظاہر نہیں کر رہا کہ آپ نے بیان اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے نہیں اپنی واہ واہ کے لئے ،چائے پانی کے لئے اور آو بھگت کرانے کے لئے کیا تھا ۔ذرا ماضی میں جھانک کر اَسلاف کا کردار دیکھئے کہ نیکی کی دعوت کی راہ میں کیسی کیسی صعوبتیں برداشت کرتے تھے او ر اس کے باوجود کس قدر عاجزی کا مظاہر ہ کرتے تھے اور طلبِ جاہ (یعنی عزّت کی خواہش )سے کس قدر بچتے تھے۔

    ابھی مُبلّغ کے دل میں پیدا ہونے والی جن خواہشات کا ذکر ہوا ،ان سے اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں محفوظ فرمائے ۔اور اِخلاص عطا فرمائے البتہ یہ چیزیں ہماری خواہش کے بغیر ہمیں مل جائیں تو پھر اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں ۔مثلا ہمارے مطالبہ کے بغیر کوئی سواری اپنی مرضی سے پیش کرے تو قبول کر سکتے ہیں ۔اسی طرح تعظیم وغیرہ کے دیگر معاملات ہیں ۔ان معاملات میں اپنے دل کواللہ عَزَّوَجَل سے ڈراتے رہیں کہ کہیں ریا کاری نہ پیدا ہو جائے ۔
Flag Counter