میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!واقعی انسان بڑی آزمائش میں پڑ جاتا ہے کیونکہ دین کے کاموں میں اِخلاص حاصل ہونا یہ نہایت ہی مشکل امرہے۔شیطان اِس قدر مکّاری کے ساتھ انسان کی نیت سے کھیلتا ہے کہ اسے پتا تک نہیں چلتا اور وہ بے چارہ شیطان کے ہاتھوں شکست کھا چکا ہوتا ہے۔نیز اِس حکایت سے معلوم ہوا کہ مَدَنی کام محض رِضائے اِلٰہی کی نیت سے کرنے والے کو تائیدِ ایزدی حاصل ہوتی ہے جس سے مخلوق کو راضی کرنے کی نیت والا محروم رہتا ہے۔حضرت فقیہ ابو اللیث سمر قندی علیہ رحمۃ اللہ الھادی اِرشاد فرماتے ہیں:امر بالمعروف(یعنی نیکی کی دعوت)کرنے والے کو چاہیے کہ اِس عمل سے اللہ عزّوجلّ کی رِضا اور دین کی سر بلندی کا قصد کرے،اپنی کوئی ذاتی غرض پیشِ نظر نہ ہو کیونکہ اللہ تبارَکَ و تعالیٰ کی رضا اور دین کی سر بلندی مقصود ہو گی تو اس عمل کی توفیق اور نُصرتِ خداوندی حاصل ہو گی،اگر کوئی نفسانی غرض آگے رکھی تو اللہ تعالیٰ اسے رسوا(اورناکام و نامراد)کر دے گا۔