Brailvi Books

رِیاکاری
146 - 167
کاٹنے کاارادہ ترک کیا اور واپس گھر لوٹ آیا۔ پھر جب صبح بیدارہوا تو اس نے دیکھا کہ تکیے کے نیچے دو دینار موجود تھے۔

    پھر دوسری صبح جب اس نے تکیہ اٹھایاتو وہاں دینار موجود نہ تھے،اسے بڑا غُصّہ آیا اور کلہاڑ ااٹھا کر پھر درخت کاٹنے چلا۔شیطان پھرانسان کی شکل میں اس کے پاس آیا اور کہا:''کہاں کا ارادہ ہے؟''وہ کہنے لگا : ''مَیں اس درخت کو کاٹنے جارہا ہوں جس کی لوگ عبادت کرتے ہیں، میں یہ برداشت نہیں کرسکتا کہ لوگ غیرِ خداکی عبادت کریں ،لہٰذامیں اس درخت کو کاٹ کر ہی دَم لوں گا۔''شیطان نے کہا: ''تُو جھوٹ بول رہاہے،اب تُوکبھی بھی اس درخت کو نہیں کاٹ سکتا ۔''چنانچہ شیطان اور اس شخص کے درمیان پھر سے کُشتی شروع ہوگئی۔ اِس مرتبہ شیطان نے اس شخص کو بری طرح پچھاڑدیا اور اس کا گلا دبا نے لگا، قریب تھا کہ اس شخص کی موت واقع ہو جاتی۔اس نے شیطان سے پوچھا: ''یہ تو بتا کہ تُو ہے کون؟'' شیطان نے کہا: ''میں ابلیس ہوں اور جب تُوپہلی مرتبہ درخت کاٹنے چلاتھاتواس وقت بھی میں نے ہی تجھے روکا تھا لیکن اس وقت تُو نے مجھے گرا دیا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت تیرا غصہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے تھا لیکن اس مرتبہ میں تجھ پر غالب آگیا ہو ں کیونکہ اب تیراغُصّہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے نہیں بلکہ دیناروں کے نہ ملنے کی وجہ سے ہے۔ لہٰذا اب تو کبھی بھی میرا مقابلہ نہیں کر سکتا ۔''
 (عیون الحکایات،الحکایۃ العاشرۃ بعد المائۃ،حکایۃ ابلیس والرجل۔۔۔۔۔۔الخ،ص۱۲۹)
Flag Counter